You are here: مقالاجات کیا اسرائیل فلسطینی مصالحت ناکام بنانے میں سنجیدہ ہے؟
 
 

کیا اسرائیل فلسطینی مصالحت ناکام بنانے میں سنجیدہ ہے؟

E-mail Print PDF

0Pala8838تحریر: صالح النعامی

فلسطینیوں میں قومی مفاہمت کی غرض سے ہونے والی مساعی کو ناکام بنانے کی صہیونی سازشیں غیر متوقع بالکل نہیں۔ جب سے فلسطینی دھڑوں میں قومی مصالحت کے لیے سنجیدگی سے بات چیت شروع ہوئی ہے اسرائیلی قیادت میں فلسطینیوں کی مفاہمت کو قبول کرنے کے لیے شرائط عاید کرنے کا مقابلہ جاری ہے۔ ان سب کی شرائط میں اسرائیل کوتسلیم کرنے کی شرط مشترک ہے، ورنہ فلسطینی قومی حکومت کواسرائیل کی جانب سے ناقابل قبول قرار دیا جائے گا۔

اسرائیل میں بھانت بھانت کی سیاسی جماعتوں اور ان کے عہدیداروں کی جانب سے فلسطینیوں کے درمیان مفاہمتی مساعی کےلیے طرح طرح کی شرائط عاید کی جا رہی ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے کہا کہ فلسطینیوں کی قومی مفاہمت اور قومی حکومت صرف اسی صورت میں قابل قبول ہوگی جب وہ اسرائیل کو ’یہودی ریاست‘ کے طور پر تسلیم کرنے کا اعلان کرے۔ دہشت گردی[مسلح تحریک آزادی] کو ترک کرے۔ جیوش ہوم کے سربراہ اور وزیرتعلیم نفتالی بینیٹ نے کہا کہ حماس اپنے ہاں قید کیے گئےاسرائیلی فوجیوں کو غیر مشروط طور پر رہا کرے اور  اپنی عسکری قوت کو بڑھانے کا عمل بند کردے۔

ان تمام باتوں کے باوجود فلسطینیوں کےدرمیان طے پانے والی مصالحت کے اسرائیلی مفادات کے نقشے پر متضاد اور متباین اثرات مرتب ہوں گے۔

فلسطینیوں کی باہمی مصالحت کی کامیابی سے اسرائیل کی یہ تشویش حقیقت ہے کہ ایسی صورت میں صہیونی ریاست کو حماس کے خلاف جنگی مشقوں کے تسلسل کا کوئی جواز نہیں رہے گا۔

اگرچہ غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے خلاف کیے گئے ہر حملے کی ذمہ دار حماس نہیں مگر تل ابیب میں اس بات پر یقین کیاجاتا ہے کہ غزہ کی پٹی میں حماس کو اقتدار سے روکنے کا اسرائیل کے پاس موقع ہے۔ تاکہ حماس غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر حملے سے گریز کرے۔ اگر حماس غزہ میں اقتدار میں رہتے ہوئے اسرائیل مخالف کارروائیاں کرے گی تو اسے یہ اداراک ہوگا کہ ان کارروائیوں کے جواب میں اسرائیل بھی بھرپور حملے کرے گا۔

ویسے بھی اسرائیل غزہ کی پٹی سے جعلی اور ’فرضی‘ راکٹ حملوں کو جواز بنا کر غزہ میں حماس کی حساس تنصیبات پر حملے کرتا رہتا ہے۔

دوسری جانب اسرائیل فلسطینیوں کی مفاہمت سے خوف زدہ ہے کیونکہ فلسطینیوں میں اتحاد رام اللہ اتھارٹی کو قضیہ فلسطین کو عالم گیر شکل دینے اور بین الاقوامی اداروں میں اٹھانے کی حوصلہ افزائی کرے گا۔ اب تک اسرائیل عالمی سطح پر یہ پروپیگنڈہ کرتا آیا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی تمام فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں کرتی۔ غزہ کی پٹی کے علاقے میں فلسطینی اتھارٹی کا اثرو نفوذ نہیں۔ اسرائیل عالمی برادری پر دباؤ ڈالتا رہا ہے اس کے نتیجے میں عالمی برادری کی طرف سے بھی فلسطینی اتھارٹی کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا۔ فلسطینیوں میں مصالحت کی کامیابی کی صورت میں اسرائیل کے ہاتھ سے یہ پتا بھی نکل جائے گا اور وہ دنیا کو یہ کہنے کی پوزیشن میں نہیں ہوگا کہ فلسطینی حکومت تمام فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں کرتی۔

ایک مفروضہ یہ بھی ہے کہ اسرائیل فلسطینیوں کے درمیان مصالحتی کوششوں کو ناکام بنانے میں زیادہ دلچسپی نہیں رکھتا۔ اس کی وجہ اسرائیل کایہ ادراک ہے کہ موجودہ حالات میں حماس کے خلاف تل ابیب کی کوئی مہم جوئی صہیونی ریاست کے تزویراتی مفادات کے لیے مناسب نہیں ہوگی۔

دوسری طرف ایک تجزیہ یہ بھی ہے کہ اسرائیل اس لیے بھی فلسطینیوں میں مصالحت ناکام بنانے میں گہری دلچسپی نہیں رکھتا کیونکہ اس پیش رفت (قومی مصالحت) کی صورت میں غزہ کی پٹی کی معاشی حالت بہتر ہوگی۔ اسرائیل اس بات سے خوف زدہ رہا ہے کہ غزہ کی پٹی کی معاشی ابتری حماس کو اسرائیل کے خلاف کسی نئی محاذ آرائی پرمجبور کرے گی۔

فرض کریں اسرائیل یہ جانتا ہے کہ فلسطینیوں میں قومی مفاہمت کی ناکامی غزہ کی سرحد پر موجودہ امن کو ختم کرنے کی اس لیے وجہ بنے گی کہ حماس غزہ کی اقتصادی ابتری کے نتائج کو روکنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ عسکری محاذ کھول دے گی۔ اسرائیل اس بات سے بھی آگاہ ہے کہ غزہ کی سرحد پر امن کے عرصے میں وہ سب سے زیادہ خسارے میں رہے گا۔ کیونکہ سنہ 1987ء میں شروع ہونے والی پہلی تحریک انتفاضہ کے بعد سے اب تک اسرائیل غزہ کی پٹی کی سرحد پر ہونے والے امن کے ادوار سے فایدہ نہیں اٹھا سکا۔

موجودہ حالات میں اسرائیل اپنی شمالی حدود اور ان کے مستقبل کے حوالے سے غیر یقینی صورت حال کا شکار ہے۔ خاص طور پر شام میں حزب اللہ اور ایران کے بڑھتے اثرو نفوذ کے بعد اسرائیل کو اپنی شمالی سرحد غیر محفوظ دکھائی دیتی ہے۔ اسرائیلی حکومتی حلقوں میں کہا جا رہا ہے کہ حماس کے ساتھ محاذ آرائی سے اسرائیل کو شمالی سرحد کی طرف سے لاحق خطرات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

یہ امر بعید از قیاس نہیں کہ اسرائیل بعض علاقائی اور عالمی قوتوں کواپنے ساتھ ملا کر فلسطینی مصالحت کو اپنے مخصوص حالات کے مطابق ڈھالنے اور لالچ اور دباؤ کے ذریعے فلسطینی تحریک مزاحمت کوغیر مسلح کرنے کی کوشش کرے۔

مثال کے طور پر تل ابیب میں بعض مواقع پر اسٹریٹجک تجزیئے پیش کیے گئے جن میں کہا گیا ہے کہ خلیجی ممالک میں جاری بحران کا بوجھ حماس پر ڈالا جائے تاکہ اس پر اپنی عسکری طاقت سے دست برداری کے لیے دباؤ ڈالا جاسکے۔ اس کے بدلے میں یہ ممالک غزہ میں جاری ان تعمیراتی منصوبوں کے لیے رقوم فراہم کریں جو قطر کی معاونت سے شروع کیے گئے ہیں۔

اسرائیل فلسطینی اتھارٹی اور مصر دونوں کو بلیک میل کرسکتا ہے۔ مصر چونکہ فلسطینیوں میں مصالحت کا نگران ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مصرنے فلسطینیوں کے درمیان مصالحت کے لیے حد درجہ لچک کا مظاہرہ کیا ہے۔ اسرائیل کو یہ بھی معلوم ہے کہ مصری فوج نے غزہ کی سرحد پر موجودی سرنگیں مسمار کردی ہیں اور فلسطینی مزاحمت کاروں کی بیرون ملک سے اسلحہ کی اسمگلنگ محدود کردی ہے۔

مختصر یہ کہ لمحہ موجود میں اسرائیل فلسطینیوں میں مفاہمت کو ایک موقع اور خطرہ دونوں طرح سے دیکھ رہا ہے۔ اسرائیل اس حوالے سے اپنا حتمی اور حقیقی موقف آنے والے دنوں ہی میں سامنے آئے گا۔