You are here: مقالاجات فلسطینی گروہوں کی مفاہمت پر ایک نظر
 
 

فلسطینی گروہوں کی مفاہمت پر ایک نظر

E-mail Print PDF

0Pala8879تحریر: صابر ابو مریم

سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان



فلسطینی جماعتوں حماس اور تحریک فتح کے درمیان مصر کی ثالثی کے نتیجہ میں ایک مفاہمتی معاہدہ طے پا گیا ہے، اب اس معاہدے کی رو سیبہت سے کام ایسے ہیں جو دونوں جماعتوں کو مشترکہ طور پر انجام دینا ہوں گے، اس مقالے میں معاہدے سے متعلق اثرات اور عالم اسلام کی پیشرفت اوراس طے پانے والے معاہدے پر عالم اسلام اور عرب ممالک کی طرف سے آنے والے رد عمل کو بھی زیر بحث لائیں گے۔

حماس جو فلسطین کی ایک نامور مزاحمتی تحریک ہے کہ جس کے بانیوں نے ہمیشہ اسرائیلی جیسی خونخوار غاصب ریاست کے ساتھ نبرد آزما رہتے ہوئے جام شہادت نوش کیا ہے جس میں شیخ احمد یاسین، ڈاکٹر عبد العزیز رنتیسی اور متعدد شہداء کے نام قابل ذکر ہیں۔ سنہ 2006ء میں فلسطین میں ہونے والے پہلے عام انتخابات میں حماس نے پہلی مرتبہ حصہ لیااور اس کے نتیجہ میں بھاری اکثریت کے ساتھ کامیابی حاصل کی لیکن اس کے باوجود بھی حماس پہلے دن سے اب تک مسلسل ایک الجھن اور پریشانی کا شکار رہی ہے کہ حماس بیک وقت سیاست و مزاحمت کے میدان میں کس طرح کاربند رہے ۔یہ الجھن اور کشمکش اس وقت پیدا ہوئی جب حماس کو ایک ہی وقت میں حکومت و سیاست اور مزاحمت میں ہم آہنگی پیدا کرنیکی مشکل پیش آئی۔ کیونکہ فلسطین کے سرکاری موقف اور علاقائی اور عالمی سطح پر فلسطینیوں کی اسرائیل کے خلاف مزاحمت کو قبول نہیں کیا جاتا۔یہی وجہ ہے کہ حماس سمیت فلسطین کی تحریک آزادی کے لئے جد وجہد کرنے والی جہاد اسلامی فلسطین اور دیگر کئی ایک جماعتوں کو مغربی دنیا نے دہشت گرد قرار دے کر اپنا دشمن اعلان کر رکھا ہے۔

فلسطین میں عام انتخابات میں کامیابی کے بعد حماس کے لئے کئی طرح کی داخلی اور خارجی پیچیدگیوں اور رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا ۔یعنی حقیقی معنوں میں حماس کو مکمل طور پر حکومت کرنے کا موقع ہی نہیں مل پایا۔ ان رکاوٹوں میں ایک بڑی مشکل فلسطینیوں میں پائی جانے والی ناچاقی، غزہ کی ناکہ بندی، حماس کی حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم نہ کیا جانا جیسے مسائل بحران کی شکل میں سامنے کھڑے تھے۔ حتیٰ کہ حماس کو یہ فیصلہ کرنا پڑا ہے اسے حکومت اور مزاحمت میں سے کوئی ایک آپشن قبول کرنا ہے۔تاہم حماس کی قیادت نے فیصلہ کیا کہ حماس کو غزہ کے اقتدار سے بالکل علیحدہ ہو جانا چاہئیے تا کہ مزاحمت کا عمل متاثر نہ ہو سکے کیونکہ حماس کے بانیان شہداء کی یہ نظریاتی فکر رہی ہے کہ اسرائیل سے مذاکرات نہیں بلکہ مزاحمت کی زبان میں بات کی جائے ۔ایک فلسطینی نوجوان لکھاری رضوان اخرس نے ایک مقالہ میں حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ ایک یہودی دانشور ماٹن اینڈیک نے سنہ 2005ء میں فلسطین میں انتخابات سے پہلے کہا تھا کہ ’حماس سے نمٹنے کا بہتر فیصلہ یہ ہے کہ اسے کسی نا کسی طرح اتھارٹی کا حصہ بنایا جائے، تاکہ ہم اس کے پاؤں میں بیڑیاں ڈال سکیں۔ اس پر دباؤ ڈال سکیں۔ جب تک حماس ایک مزاحمتی تحریک کے طور پرعالمی دنیا سے رابطے سے باہر رہے گی تو اس کی قوت اور طاقت مسلسل بڑھتی جائے گی‘۔

رضوان اخرس نے اپنی ماضی کی تحریروں کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا ہے کہ راقم چند سال پیشتر اپنے ایک مضمون میں یہ لکھ چکا ہے کہ حماس کو لبنانی حزب اللہ کے تجربات سے استفادہ کرنا ہوگا۔ اس کا ریاست اور اس کے اداروں کے ساتھ تعلق بھی قائم ہے اور وہ اپنے حجم کے مطابق ان اداروں اور ریاستی امور میں اثرو نفوذ بھی رکھتی ہے۔ براہ راست حکومت کا حصہ ہے۔ حزب اللہ حکومت کو اور حکومت حزب اللہ کو ایک دوسرے کے لیے بوجھ نہیں سمجھتے۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں پر نتائج بھی مختلف ہیں۔اگر انصاف کی بات کروں تو سچ یہ ہے کہ حماس کے فیصلے غالباً اختیاری نہیں بلکہ اضطراری ہیں۔ حماس کو دباؤ، جنگوں، غزہ کی ناکہ بندی اور غرب اردن میں جماعت کو دیوار سے لگانے کے اقدامات حماس کے فیصلوں پر اثرا انداز ہوتے ہیں۔

بہر حال مسائل کے بوجھ تلے دبی حماس اور فلسطینی قوم نے مصر کی جانب سے پیش کردہ ثالثی کو قبول کرتے ہوئے آپس میں مفاہت کے ایک معاہدے پر دستخط کر لئے ہیں اور اس عنوان سے اب جہاں یہ معاہدہ فلسطینی عوام کے لئے مثبت اور خوش آئیند ہے یقیناًوہاں پوری دنیا کے مسلمانوں کے لئے بھی باعث مسرت ہے لیکن اس معاہدے کے یقیناًمنفی اثرات مرتب ہونے کے خدشات ہیں اور یقیناًمعاہدے میں موجود حماس کی قیادت کو بھی اس طرف توجہ ہو گی کیونکہ الفتح یا فلسطینی اتھارٹی براہ راست اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کاری اور نام نہاد امن منصوبوں کی پیرو ہے جبکہ حماس کی بنیاد ہی میں مزاحمت اور اسرائیل کا وجود غاصبانہ اور جعلی ریاست ہے تاہم اس معاہدے کی رو سے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ بہت سے معاملات میں شاید حماس کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا اور دوسری طرف امریکا اور اسرائیل جو پہلے ہی حماس کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں وہ کس طرح سے فلسطینی اتھارٹی کے ساتھ حماس کو قبول کر لیں گے یہ سوالات اہم ہیں اور وقت آنے پر یقیناًان کے جوابات بھی سامنے آئیں گے۔

ان تمام باتوں سے بالا تر ہو کر ہم بات کرتے ہیں عالم اسلام اور عرب دنیا کی کہ جس نے مصر کی ثالثی میں فلسطینی گروہوں میں پائے جانے والی مفاہمت پر خود کو ذرائع ابلاغ میں فلسطینیوں کا ہمدرد بنا کر پیش کرناشروع کر دیا ہے یقیناًحیرت انگیز ہے کیونکہ جب یہی فلسطینی مظلوم اسرائیلی فوجیوں کے مظالم کی بھینٹ چڑھ رہے ہوتے ہیں تو ان عرب و اسلامی ممالک کو پرواہ تک نہیں ہوتی اور آج آگے بڑھ بڑھ کر ایک سے آگے دوسرا نکل جانے کی تگ و دو کر رہا ہے۔

فلسطینی گروہوں کی مفاہمت پر ترک وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں حماس اور فتح کے درمیان مصالحت کے عمل کو مثبت اور قابل تحسین پیش رفت قرار دیا گیا ہے اورہرممکن تعاون کا یقین دلایاگیا ہے۔لیکن اس بیان میں ہر گز یہ نہیں بتایا گیا ہے کہ ترکی اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات ختم کرنے کا اعلان کر رہاہے اور نہ ہی یہ بتایا گیاہے کہ ترکی کے دارلحکومت میں موجود اسرائیلی سفارتخانہ بند کیا جائے گا۔

بات جب بازی لے جانے کی چل نکلی تو ہمارے ہر دل عزیز سعودی فرمانروا بھی اس دوڑ میں کسی سے پیچھے نہیں رہے ۔ شاہ سلمان بن عبدالعزیز نے صدر عباس کو قومی مفاہمتی معاہدہ کرنے پر مبارک باد پیش کی اور یقین دلایا کہ سعودی عرب فلسطینیوں کے حقوق کی ہرفورم پر حمایت جاری رکھے گا۔لیکن شاہ سلمان بن عبد العزیز کو شاید یہ بتانا پسند نہیں ہے کہ انہی کے خاندان کے شہزادے اسرائیل میں سفارتکاری کے خواب دیکھ رہے ہیں جبکہ حالیہ دنوں ہی اسرائیلی اعلی سطحی وفد بھی سعودی عرب کا دورہ کر کے واپس گیا تھا جس کو بھی شاید انہوں نے فراموش کر دیا ہو، یا شاید ان کی مدد کرنے سے مراد یہ تھی کہ ستر سال کی جد وجہد میں تو ہم نے فلسطینیوں کو ایک گولی تک کی مدد یا اس کے برابر کی رقم نہیں نوازی تو شاید اب کس طرح کی مدد کریں گے، سمجھ سے بالا تر ہے کہ ایک طرف اسرائیلی سرپرست امریکا کے ساتھ بھرپور تعاو ن اور اربوں ڈالر کے اسلحہ کے سودے اور دوسری طرف فلسطینیوں کو مدد کرنے کے سہانے خواب۔

لبنان نے بھی فلسطینیوں کی مفاہمت پر مثبت رد عمل ظاہر کیا ہے البتہ لبنان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ فلسطین پر غاصب اسرائیل کے تسلط سے قبل اور بعد میں ہمیشہ ہر عنوان سے لبنان اور اس کے عوام نے فلسطینیوں کی بھرپور مدد کی ہے اور آج بھی مشکل حالات میں لبنان فلسطینی عوام کے حق میں کھڑا ہے۔اردن نے فلسطینی قوتوں کے درمیان طے پائے مصالحتی معاہدے کو مثبت قرار دیا۔اردن حکومت کے موقف کے مطابق وہ یہ سمجھتے ہیں کہ فلسطینیوں میں یکجہتی کے نیتجے میں سلب شدہ فلسطینی حقوق کے حصول میں مدد ملے گی اور سنہ 1967ء کی حدود میں آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔جبکہ اردن اس بات کو فراموش کر رہا ہے کہ فلسطین سنہ67ء کی سرحدوں پر قائم نہیں تھا بلکہ فلسطین کی سرحدیں سنہ48ء کی سرحدیں ہیں کہ جس میں غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل نام کی کوئی چیز وجود نہیں رکھتی ۔

خلیجی ریاست کویت نے بھی حماس اور فتح کے درمیان مصالحت کو غیرمعمولی اور تاریخی کامیابی قراردیا ہے۔کویتی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ فلطسینیوں میں مفاہمت قوم کو درپیش چیلنجز سے نجات میں اہم کامیابی ثابت ہوگی۔دوسری طرف انٹرا یونین آف پارلیمنٹ کے اجلاس میں کویت کے پارلیمنٹ کے سربراہ مرزوق الغانم نے صیہونی پارلیمانی وفد کی براہ راست شدید مذمت کی اور صیہونیوں کو اجلاس سے واک آؤ ٹ پر مجبور کر دیا جس پر پوری دنیا میں ان کی تقریر کو خراج تحسین پیش کیا جا رہاہے۔دوسری طرف ستر سالوں سے سوئی ہوئے عرب لیگ بھی خواب غفلت سے جاگ اٹھی ہے اور فلسطینی گروہوں کی مفاہمت پر بیان داغ ڈالا ہے کہ جس کو ہزاروں معصوم انسانوں کے خون بیدار نہیں کر پایا وہ عرب لیگ فلسطینیوں کی مفاہمت پر بیدار ہو گئی ہے جو یقیناً فلسطینیوں کے لئے بھی حیران کن ثابت ہو اہے۔