You are here: مقالاجات اعلان بالفور ۔۔۔مظلومیت فلسطین کے سو سال
 
 

اعلان بالفور ۔۔۔مظلومیت فلسطین کے سو سال

E-mail Print PDF

0Pala9043تحریر: صابر ابومریم 

سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان

انبیاء ؑ و اسریٰ کی سرزمین مقدس پر غاصب اور جعلی ریاست کے قیام سے ہی مظلومیت کی ایک ایسی داستان کا آغاز ہو ا تھا کہ جسے اب ایک سو سال مکمل ہو رہے ہیں اور ان سو سالوں میں شاید فلسطینیوں کی تین نسلیں دنیا میں وجود پذیر ہو چکی ہیں کہ جنہوں نے اپنی زندگی کی بہاروں کو اپنے ہی وطن سے دورشام، لبنان، عراق، اردن، مصر اور دنیا کے دیگر ممالک میں مہاجر بستیوں میں گزرتے دیکھا ہے یا تا حال دیکھ رہے ہیں۔فلسطین پر اسرائیلی غاصبانہ تسلط ویسے تو سنہ1948ء کو ایسی حالت میں ہو اکہ دسیوں ہزار مظلوم فلسطینیوں کو ایک ہی دن میں ان کے گھروں سے بے گھر کیا گیا، صیہونیوں کے سامنے مزاحمت کرنے والوں کو دہشت گردانہ کاروائیوں میں قتل کیا گیا، اور نہ جانے کیا کیا مظالم ڈھائے گئے کہ جس کی بناء پر تاریخ میں اس سیاہ دن کو یوم نکبہ یعنی تباہی و بربادی کے نام سے یاد کیا جاتا ہے لیکن حقیقت تو یہ ہے کہ سنہ1948ء کے یوم نکبہ سے پہلے ہی فلسطین پر ایک نکبہ ڈھایا گیا تھا جس کو تاریخ کے سیاہ حروف میں اعلان بالفور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے ۔

یہ 1917 ء کی بات ہے کہ جب روس کی داخلی صورت حال خراب تھی۔ حکومت اور فوج کمزور پڑ چکی تھی۔ جنوبی روس میں مسلمان بھی تحریک چلا رہے تھے۔ یہودیوں اور کیمونسٹوں نے اس خراب صورتحال سے فائدہ اٹھایا اور بعض واقعات کے بعد کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے روس میں مارکسزم اور کمیونیزم کا نظام نافذ کر دیا۔ نزار روس کا نام تبدیل کر کے سوشلسٹ سوویت یونین رکھ دیا گیا۔ جنگ میں شرکت پر پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ تمام واقعات اور ان کے نتیجہ میں رونما ہونے والی تبدیلیاں یہودیوں اور برطانیہ کے فائدے میں تھیں۔اس میں سب سے اہم بالفور اعلامیہ تھا، جسے برطانیہ کے وزیر خارجہ نے اعلان کیا اور اس کے بعد عملی طور پر فلسطین پر قبضہ شروع ہوگیا۔ بالفور اعلامیہ یوں تھا:
2 نومبر 1917۔۔۔لارڈ روچیلڈ عزیز:
انتہائی مسرت کے ساتھ اعلیٰ حضرت کی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے، صہیونی یہودیوں کی حمایت میں کابینہ اور پارلیمنٹ میں منظور ہونے والی قرارداد پیش کر رہا ہوں:اعلیٰ حضرت کی حکومت ، فلسطین میں قوم یہود کے لیے ایک قومی وطن کی تشکیل کو اچھی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کی خاطر حکومت ہر طرح کا تعاون کرے گی۔ البتہ غیر یہودی افراد جو فلسطین میں رہ رہے ہیں ان کے سماجی اور مذہبی حقوق کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ دوسرے ممالک میں رہنے والے یہودیوں کے حقوق اور ان کی سیاسی حیثیت کو ہر چیز پر ترجیح دی جائے گی۔

صہیونی فیڈریشن میں اس اعلامیہ کو بیان کرنے پر ہم آپ کے مشکور ہونگے۔ آپ کا عقیدت مند۔۔آرتور جیمز بالفور
بالفور اعلان کے ایک مہینہ بعد دسمبر میں برطانوی فورسز نے برٹش یہودی جنرل آلن بی کی سربراہی میں بیت المقدس پر قبضہ کر لیا۔

1918 میں جنگ کی آخری چنگاریوں ، صلح اور غنائم پر مذاکرات کے ساتھ پہلی عالمی جنگ ختم ہوگئی۔ اس کے ساتھ ہی برست۔ لیتوسک معاہدہ مابین سوویت یونین اور جرمنی طے پایا۔ ورسا معاہدے کی بنیاد پر پریس صلح کانفرنس منعقد ہوئی۔ جرمنی کا تمام کالونیوں سے ہاتھ اٹھانا، آلزاس اور لورن کا فرانس میں شامل ہونا، جرمنی میں وایمار حکومت کا بنانا ، جو 1933 تک باقی رہی ، انجام پایا۔

فرانس اور اٹلی نے سرکاری سطح پر بالفور اعلامیہ کی حمایت کا اعلان کر دیا تاکہ صہیونی یہودیوں کا فلسطین جانا عملی ہو سکے جس کا اصل معنی فلسطین پر قبضہ تھا۔ برطانیہ نے بالفور اعلامیہ پر عملدرآمد کرنے کی راہ میں رکاوٹوں اور مشکلات کو جاننے کے لیے ایک گروہ فلسطین بھیجا۔ یہ وہ صہیونی تھے جو برطانیہ کے نام سے پروگرام کو اپنی مرضی کے مطابق لے کر چل رہے تھے۔ امریکہ کے صدر ولسن نے بالفور اعلامیہ کی حمایت کر کے صہیونی منصوبہ کی حمایت کا اعلان کیا تاکہ فلسطین ایک یہودی ملک بن جائے اور وہ مغربی تنظیم میں شامل ہو کر روابط مضبوط بنا سکے۔ اس کے بعد نئے وجود میں آنے والے امریکہ کی جانب سے یہودیوں اور صہیونیوں کی ہر قسم کی حمایت اور پھر اسرائیلی حکومت کی طرفداری اپنی آخر سطح تک پہنچ گئی۔ اگرچہ کبھی کبھار جمہوریت کا دکھاوا کر کے اور دفاع از حق کے عنوان سے زبانی طور پر فلسطینیوں کے حقوق پر بات ہو جایا کرتی تھی۔

یہودی جنرل برطانوی فوج کا سربراہ آلن بی ، قدس اور فلسطین پر قبضہ کرنے کے بعد کہتا ہے: یہ صلیبی جنگوں کا اختتام ہے۔ یعنی جب یہودی قدم بہ قدم اپنے اہداف سے قریب ہو رہے تھے ٹھیک اس وقت وہ صلیبی جنگوں کا ذکر کرتے ہوئے عیسائی دنیا اور مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دے رہا تھا۔

انہی دنوں سے مسلمانوں کی جانب سے دفاع اور مقابلہ شروع ہوگیا تھا۔ اگرچہ ابتدا میں بہت سی مصیبتوں اور مشکلات کا سامنا تھا۔ بعض افراد جب فلسطینی لوگوں کی جد و جہد کا ذکر کرتے ہیں تو کہتے ہیں : ’’ ستر سالہ مجاہدت ‘‘ جبکہ ابھی تک یقینی طور پر ایک سو سال گزر چکے ہیں جوکہ فلسطینی عوام ظلم و بربریت کا شکار ہے اور اپنا دفاع و مجاہدت کر رہے ہیں۔ستر سال تو صرف اسرائیلی ظالم حکومت کے زیر تسلط گزر گئے ہیں۔ ان ایک سو سالوں کے دوران تمام عالم اسلام میں دفاع کی تحریکیں اٹھی ہیں، طاقتوروں کے تسلط اور ظلم کے خلاف تحریکیں چلی ہیں۔ جیسے 1919 میں مصر کے لوگوں نے برطانوی قابضین کے خلاف قیام کیا۔

بالفور اعلامیہ کو اب ایک سو سال مکمل ہوچکے ہیں اور دنیا کی مظلوم ترین فلسطینی قوم آ ج بھی اپنے ان حقوق کے لئے جد وجہد کر رہی ہے کہ جن کا ذکر بالفور اعلامیہ میں کیا گیا تھا اور فلسطینیوں کو رام کرنے کے لئے اعلامیہ کا حصہ بنایا گیا تھا دراصل اس اعلامیہ میں واضح طور پر اسرائیل کی غاصب ریاست کو وجود بخشنے کی بات کی گئی تھی اور یہی وہ سیاہ اعلامیہ ہے کہ جس کی بنیاد پر بعد میں اقوام متحدہ نے غاصب اور صیہونی جعلی ریاست کے قیام کے لئے راہ ہموار کی البتہ دوسری جانب فلسطینیوں کے حقوق کی پائمالی پر نہ تو اس وقت کی کفالت کرنے والی ریاست برطانیہ نے توجہ دی اور نہ ہی آج تک کی اقوام متحدہ اور بڑے بڑے ادارے توجہ کر رہے ہیں۔

حقیقت تو یہی ہے کہ ایک جھوٹ اور فریب یعنی بالفور اعلامیہ کی بنیاد پر سرزمین فلسطین پر صیہونیوں کا قبضہ کروایا گیا لیکن ایک حقیقت اور بھی ہے کہ جو وعدہ الہٰی سے مربوط ہے کہ جس کے سامنے بالفور اعلامیہ کی کوئی حیثیت نہیں ہے اور وعدہ الہٰی یہ ہے کہ خدا مظلوموں کو ہی دنیا کا وارث بنائے گا اور ظالموں کی بالآخر سخت پکڑ ہونے والی ہے۔آج جبکہ بالفور نامی سیاہ اعلان کو ایک سو سال مکمل ہو رہے ہیں تو فلسطین سمیت دنیا بھر کے با ضمیروں کی آوازیں فضاؤں میں گونجتی سنائی دیتی ہیں اور ہر طرف سے برطانوی سامراج سے یہ مطالبہ کیا جا رہاہے کہ برطانیہ اس سیاہ ترین بالفور اعلامیہ پر فلسطینی قوم سے معافی مانگتے ہوئے اسرائیل جیسی خونخوار اور جعلی ریاست کی سرپرستی و حمایت سے پیچھے ہٹ جائے اور اس بات کو تسلیم کیا جائے کہ بالفور اعلامیہ حکومت برطانیہ کی سنگین غلطی تھی کہ جس کی وجہ سے ایک سو سال سے مظلوم فلسطینیوں کو صیہونی دہشت گردی کا نشانہ بنایا جا رہاہے اور دسیوں ہزار معصوم انسانی جانوں کا زیاں ہو چکا ہے جبکہ لاکھوں فلسطینی اپنے گھروں سے بے گھر اپنے وطن فلسطین لوٹ کرآنے کے لئے بے تاب ہیں۔