You are here: مقالاجات اعلان بالفور کا پس منظر
 
 

اعلان بالفور کا پس منظر

E-mail Print PDF

0Pala9125تحریر: عرفان علی

فلسطین کے ساتھ برطانوی سامراج نے جو بدترین اور تاریخی نوعیت کی خیانت کی، وہ بالفور اعلامیہ ہے، جو ایک صدی پہلے جاری کیا گیا تھا۔ برطانوی سامراج کے صہیونیت نواز وزیر خارجہ آرتھر جیمز بالفور (جو بعد میں لارڈ بنائے گئے) نے 2 نومبر 1917ء کو برطانیہ کے صہیونی لیڈر لارڈ روتھس چائلڈ کو ایک خط لکھا تھا۔ بالفور نے اس خط میں صہیونی یہودیوں کی (اپنے قومی وطن سے متعلق) خواہشات سے ہمدردی کا اظہار کیا۔ اس نے یقین دلایا کہ برطانیہ فلسطین میں یہودیوں کے قومی گھر (نیشنل ہوم) کے قیام کی حمایت کرتا ہے اور اس مقصد کے حصول کے لئے برطانیہ بھرپور کوشش کرے گا۔ اسی خط کو ’’بالفور اعلامیہ‘‘ کہا جاتا ہے۔ بعد ازاں بالفور اعلامیہ ایک تاریخی دستاویز کی حیثیت اختیار کر گیا۔ نسل پرست یہودی اسی اعلامیے کو اسرائیل کے قیام کی بنیاد بتاتے ہیں، حالانکہ برطانیہ سمیت کسی بھی ملک کو یہ حق نہ تھا، نہ ہے اور نہ ہی کبھی ہوگا کہ وہ فلسطینیوں کی سرزمین سے متعلق کوئی فیصلہ سنائیں یا مسلط کریں۔ اس اعلامیے میں فلسطینیوں کو بے وقوف بنانے کے لئے از راہ تکلف یہ بھی لکھا گیا تھا کہ ایسا کوئی کام نہیں کیا جائے گا، جس سے فلسطین کی غیر یہودی آبادی کے شہری اور مذہبی حقوق پامال ہوں۔ اس میں یہ بھی تحریر کیا گیا کہ ایسا کچھ بھی نہیں کیا جائے گا، جس سے دیگر ملکوں میں آباد یہودیوں کے حقوق اور سیاسی حیثیت متاثر ہوں۔ آرتھر جیمز بالفور نے روتھس چائلڈ کو لکھا کہ اس اعلامیے کے متن سے وہ صہیونی فیڈریشن کو بھی آگاہ کر دے۔

اس اعلامیے کا پس منظر یہ ہے کہ جب یہ جاری کیا گیا، پہلی جنگ عظیم لڑی جا رہی تھی۔ فلسطین ترک خلافت عثمانیہ کے زیر انتظام علاقہ تھا۔ ترکی ’’مرکزی طاقتوں‘‘ کے ساتھ تھا۔ برطانیہ اور امریکہ ’’اتحادی طاقتوں‘‘ کے بلاک میں شامل تھے۔ جنوری 1915ء میں ترکی کی عثمانی حکومت کی افواج نے مصر کے علاقے نہر سوئز اور وادی سینا پر حملہ کر دیا تھا۔ مصر برطانوی سامراج کے زیر تسلط تھا۔ اس حملے کے بعد برطانیہ کو قریبی علاقے فلسطین کی اسٹرٹیجک اہمیت کا اندازہ ہوگیا تھا۔ اس صورتحال کے پیش نظر برطانیہ کے صہیونی سر ہربرٹ سیموئیل نے برطانوی کابینہ کو خط لکھا، جس میں تجویز کیا گیا کہ فلسطین میں یہودی وطن کا قیام برطانیہ کی مشرق وسطٰی پالیسی کے لئے مرکزی حیثیت رکھتا ہے۔ یہی سر ہربرٹ سیموئیل بعد میں فلسطین میں برطانیہ کا ہائی کمشنر (یعنی سفیر) مقرر کیا گیا تھا۔ بالفور کی طرح برطانیہ کی مخلوط حکومت کے وزیراعظم ڈیوڈ لائڈ جارج بھی صہیونیت کے حامی تھے۔ امریکہ اپریل 1917ء میں پہلی جنگ عظیم کے اتحادی بلاک میں فعال ہوا تھا۔ ستمبر میں برطانوی حکومت کے صہیونی حلقوں نے کھل کر صہیونی اہداف کی حمایت حاصل کرنے کے لئے اس مسئلے کو کابینہ میں پیش کیا، لیکن کابینہ نے ان کی تجویز منظور نہیں کی۔ اس کے بعد انہوں نے امریکی صدر ووڈرو ولسن سے مشورہ کیا۔ ووڈرو ولسن خود صہیونیت نواز تھا، لیکن اس نے تجویز دی کہ ابھی اس حد تک جانے کا مناسب وقت نہیں ہے، لہٰذا زیادہ سے زیادہ یہ کیا جا سکتا ہے کہ صہیونیوں سے اظہار ہمدردی کے لئے ایک بیان جاری کر دیا جائے۔

اگلے ماہ یعنی اکتوبر میں یہ افواہیں زوروں پر تھیں کہ جرمنی بھی صہیونی تحریک کو منانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یاد رہے کہ جرمنی ’’مرکزی طاقتوں کے بلاک‘‘ کا حصہ تھا۔ ان افواہوں کے بعد برطانیہ کے صہیونیت نواز وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے امریکی صدر ووڈرو ولسن سے رابطہ کیا۔ اسی کے مشورے کی روشنی میں آرتھر جیمز بالفور نے 2 نومبر کا وہ تاریخی خط تحریر کیا تھا۔ فرانس اور اٹلی کی حکومتوں نے 1918ء میں اس خط کی توثیق کی۔ اتحادی طاقتوں کی توثیق کے بعد اسے 1920ء کے معاہدہ سان ریمو کا حصہ بنایا گیا۔ جولائی 1922ء میں لیگ آف نیشنز نے اسے فلسطین مینڈیٹ کی دستاویز میں شامل کیا تھا۔ 1922ء میں امریکی ایوان نمایندگان (کانگریس) نے ایک مشترکہ قرارداد کے ذریعے فلسطین میں یہودی نیشنل ہوم (قومی گھر) کے قیام کی حمایت کی۔ برطانوی سامراج ایک جانب صہیونیوں کی تحریک کی حمایت کر رہا تھا تو دوسری جانب برطانوی سامراج کی جانب سے میک میہن عرب رہنماؤں سے ترکی کی خلافت عثمانیہ سے آزادی کی یقین دہانی کروا رہا تھا۔ 1915ء اور 1916ء میں میک میہن نے شاہ حسین کو خطوط لکھے تھے، جس میں ان کی حمایت کے بدلے میں عرب ممالک کو آزادی دینے کا یقین دلایا تھا۔ اس کے باوجود عرب رہنماؤں نے بالفور اعلامیے سمیت ایسے ہر معاہدے کی مخالفت کی، جس میں فلسطین میں یہودیوں کا علیحدہ وطن کے قیام کی بات کی گئی۔ یاد رہے کہ برطانوی سامراج نے 1916ء میں عرب ممالک پر تسلط کے لئے فرانس سے ایک خفیہ معاہدہ کر لیا تھا، جسے سائیکس، پیکو معاہدے کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اعلان بالفور بھی عالمی استکبار کی ایک ایسی منظم سازش کا ہی حصہ تھا، جو پہلے سے طے پا چکی تھی۔

حیرت انگیز بات یہ ہے کہ لیگ آف نیشنز نے جولائی 1922ء میں بالفور اعلامیہ کو فلسطین مینڈیٹ کے قیام کے مسودے میں شامل کر لیا، جبکہ جون 1922ء میں برطانوی وزیراعظم ونسٹن چرچل نے جو قرطاس ابیض (وائٹ پیپر) تحریر کیا، اس میں اس بات کی وضاحت کر دی گئی تھی کہ فلسطین میں یہودیوں کے قومی گھر سے مراد کوئی علیحدہ مملکت نہیں بلکہ ثقافتی اعتبار سے یہودیوں کی خود مختاری ہے۔ عربوں نے اس قرطاس ابیض کی بھی اس لئے مخالفت کی کہ اس میں یہودیوں کی فلسطین کی جانب نقل مکانی کی حمایت کی گئی تھی۔ ونسٹن چرچل کے وائٹ پیپر سے البتہ یہ بات واضح ہوچکی تھی کہ برطانوی حکمران طبقے میں بعض شخصیات کی نظر میں بالفور اعلامیہ وہ معنی و مفہوم نہیں رکھتا تھا، جو نسل پرست صہیونیوں نے دنیا بھر میں مشہور کر رکھا تھا۔ 1939ء میں برطانوی حکومت کے ایک اور قرطاس ابیض میں یہودیوں کی نقل مکانی کی عرب مخالفت کی وجہ سے ڈھکے چھپے الفاظ میں مخالفت کی گئی۔ اس میں یہودیوں کی جانب سے فلسطینی زمین خریدنے پر بھی پابندی عائد کی گئی۔ چونکہ اس میں فلسطین کی آزادی کا ایک دس سالہ طویل منصوبہ بیان کیا گیا تھا، لہٰذا عربوں نے اسے مسترد کر دیا۔ یہودیوں نے اسے یہ کہہ کر مسترد کر دیا کہ یہ فلسطین مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہے۔ 20 اپریل 1946ء کو سوئٹزر لینڈ میں فلسطین سے متعلق برطانیہ اور امریکہ کی ایک مشترکہ تفصیلی انکوائری رپورٹ جاری کی گئی۔

اس اینگلو، امریکن کمیٹی آف انکوائری کی رپورٹ کے انڈیکس نمبر چار میں فلسطین کا تاریخی پس منظر تحریر کیا گیا۔ اس میں لکھا گیا کہ پہلی جنگ عظیم سے پہلے فلسطین کی کل آبادی چھ لاکھ نواسی ہزار (6،89000) تھی اور اس میں یہودیوں کی تعداد فقط پچاسی ہزار (85000) تھی۔ اس رپورٹ میں لکھا کہ بالفور اعلامیے کے وقت یہ بات یقینی تھی کہ 1917ء میں کوئی بھی فوری طور پر ایسی یہودی ریاست قائم نہیں ہونی تھی، جو فلسطین کی عرب اکثریت پر حکومت کرتی، لیکن برطانیہ اور امریکہ کی حکومتوں کے صہیونیت نواز ذمے داروں اور یہودیوں کو یقین تھا کہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ فلسطین میں یہودیوں کی اکثریت ہوسکتی ہے اور اس طرح بالفور اعلامیے کا حتمی نتیجہ یہودی ریاست کی شکل میں سامنے آئے گا۔ ونسٹن چرچل کی مختلف تشریح کے باوجود یہ بات ثابت ہوئی کہ بالفور اعلامیہ اس منظم سازش کا ایک حصہ تھا، جس کے تحت فلسطین پر صہیونی یہودی ریاست مسلط کرکے برطانیہ اور امریکہ نے اپنے اور صہیونی سامراج کے مشترکہ مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔ اسی سازش کے تحت اسرائیل نامی جعلی ریاست قائم کی گئی تھی۔ اسی لئے فلسطینیوں کی جانب سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کہاں ہیں بالفور اعلامیے کے تحت فلسطینیوں کی پیٹھ میں چھرا گھونپنے والا نام نہاد متمدن ملک برطانیہ اور اس کے اتحادی ممالک، کوئی ان سے پوچھے کہ کیا آج تک فلسطینیوں کے شہری اور مذہبی حقوق پامال ہوتے انھیں نظر نہیں آ رہے۔؟ اعلان بالفور کے بعد کے تیس یا اکتیس سال ہوں یا پچھلے ستر سال کے واقعات، یعنی پوری ایک صدی میں ان پر گذرنے والے حادثات و سانحات نے فلسطینیوں کو صرف ایک نتیجہ اخذ کرنے پر مجبور کر رکھا ہے کہ اسرائیل کا وجود ہی فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی پر مبنی ہے، لہٰذا اس کا خاتمہ ناگزیر ہے۔