You are here: مقالاجات داعش کی شکست اوراسرائیل کی بوکھلاہٹ
 
 

داعش کی شکست اوراسرائیل کی بوکھلاہٹ

E-mail Print PDF

0Pala9297تحریر: صابرابو مریم

حالیہ دنوں شام اور عراق کی سرحد پر اسرائیلی و امریکی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہ داعش کی شکست کے بعد داعش مخالف فورسز نے اس شام و عراق سے داعش کے خاتمہ اور شکست کا رسمی اعلان کیا ہے جبکہ اس بات کے خطرات تاحال موجود ہیں کہ شکست خوردہ یہ دہشت گرد اور ان کے آقا امریکا اور اسرائیل اس شکست کے بعد اس خطے میں نت نئے انداز سے دہشت گردی کو پروان چڑھانے میں کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔یہاں پر اہم نقطہ یہ ہے کہ اسرائیل کی مدد کرنے والے ایک کے بعد ایک کر کے شکست سے دوچار ہو رہے ہیں حالانکہ اسی داعش کو دیکھ لیجیے کہ جس نے تقریبا چھ برس تک پورے خطے کو آگ و خون میں غلطاں کئے رکھا اور اسرائیل کے لئے امن و امان فراہم کیا ، افسوس تو ا س بات کا ہے کہ یہ داعش اور النصرۃ نامی دہشتگرد گروہ اسلام کا نام لے کر پیغمبر اکرم (ص) کے نام کا جھنڈا لے کر نکلے اور ایسی بد ترین سفاکیت کی سیاہ تاریخ رقم کی کہ زبان بیان کرنے سے عاجز ہے۔

ان دہشتگرد گروہوں نے نہ صرف مسلم دنیا کو تہس نہس کیا بلکہ اپنے آقا اسرائیل کو امان دئیے رکھی اور اس کے لئے مواقع اور وقت فراہم کیا کہ اسرائیل اپنے ناپاک عزائم کو آسانی سے پھیلاتا رہے۔بہر حال خدا کا کرم یہ ہے کہ ان امریکی و اسرائیلی حمایت یافتہ دہشت گرد گروہوں کو شکست کھانی پڑی اور ذلت و رسوائی ان کے مقدر کا حصہ بنی ۔

دوسری طرف اسرائیل ان دہشت گرد پٹھو گروہوں داعش اور النصرۃ کی شکست پر شدید پریشانی کے عالم میں مبتلا ہے کیونکہ ان دہشت گردوں کے جس مقصد کے لئے بنایا اور پال پوس کر یعنی اسلحہ اور دولت دے کر پروان چڑھایا تھا وہ سب کا سب اب خاک ہو چکا ہے، بہر حال اب اسرائیل کی بوکھلاہٹ اس لئے بھی زیاد ہ بڑھ چکی ہے کیونکہ پہلے ماضی میں سنہ2006ء میں اسرائیل براہ راست جنگ میں بھی لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو ا تھا جس کے بعد نئے مرحلے میں ان دہشت گرد گروہوں کو پروان چڑھانے کی ناپاک منصوبہ بندی شروع کی گئی تھی ۔اسرائیل کی بوکھلا ہٹ اس لئے بھی بڑھتی چلی جا رہی ہے کیونکہ لبنان ہی کی اسلامی مزاحمت حزب اللہ کے خلاف سیاست کے میدان میں جو محاذ کھڑا کرنے کی کوشش کی گئی تھی وہ بھی ناکام بلکہ یوں کہیئے کہ بری طرح ناکام ہوئی ہے، جی ہاں لبنان کے وزیر اعظم سعد الحریری کہ جنہوں نے لبنان کے مفاد کے بجائے اسرائیلی و امریکی مفاد کو ترجیح دیتے ہوئے لبنان کو ایسے وقت میں غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی کہ جب لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ نہ صرف اسرائیل کے خلاف سرحدوں ہر مصروف جہاد ہے بلکہ اسرائیلی پیدا کردہ فتنۂ داعش کی سرکوبی میں بھی اہم کردار ادا کیا ہے، سعد حریری نے کچھ دن قبل سعودی عرب پہنچ کر وزارت عظمی کے عہدے سے استعفیٰ دیا تا کہ ملک میں سیاسی بحران آئے اور اس کا پورا پورا فائدہ گھات لگائے ہوئے صیہونی دشمن کو پہنچے لیکن اسرائیل اوراس کے ہمنوان عرب ملک کی یہ سازش بری طرح ناکام ہوئی لبنانء عوام متحد رہے اور صدر اور اسپیکر نے ملک کو متحد رکھنے اور عوام کو یکجا رکھ کر اسرائیل اور اس کے ہمنوا عرب ممالک کے خواب چکنا چور کر دئیے، نتیجہ میں شکست کا اعتراف کرتے ہوئے سعد حریری چند دن سعودی عرب میں گذارنے کے بعد مصر اور فرانس کا چکر لگاتے ہوئے واپس لبنان آ دھمکے اور استعفیٰ واپس لے لئے۔

در اصل صیہونی حمایت یافتہ دہشت گردوں کی میدان جنگ میں ذلت و رسوائی کے بعد اسرائیل کی طرف سے لبنان کی اسلامی مزاحمت کے خلاف ایک نئی چال تھی جو کہ بالآخر ناکامی کا شکار ہوئی ہے۔ اب کچھ دن گزر جانے کے بعد پھر اسرائیل شدید بوکھلاہٹ میں لبنان پر کسی نئی ممکنہ جنگ کا عندیہ دے رہا ہے کہ جس کا ہدف ہمیشہ کی طرح حزب اللہ کو قرار دیا جا رہاہے اور صیہونی ذرائع ابلاغ پر س بحث کی بہت تکرار کی جا رہی ہے کہ لبنان کی اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کو غیر مسلح اور ختم کیا جائے گا اور اس کے لئے اسرائیل جنگ کے آپشن پر غور کر رہاہے، در اصل اسرائیل کا ایک مرتبہ پھر جنگ میں براہ راست داخل ہونے کی باتیں کرنا یہ ثابت کر رہاہے کہ خطے میں اسرائیلی نصب شدہ منصوبے او ر آلہ کا دہشت گرد گروہ اور سیاست دان بالخصوص امریکا سب کے سب فلسطین کی جد وجہد آزادی میں سرگرم عمل اسلامی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کو گھنٹنے ٹکوانے میں ناکام ہوئے ہیں۔

دوسری طرف خود اسرائیل میں تجزیہ نگار وں کاکہنا ہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے لبنان یا حزب اللہ کے خلاف کسی بھی قسم کی شروع کردہ جنگ کے نتائج اسرائیل کے لئے بھیانک ہو ں گے کیونکہ امریکا اور اسرائیل پہلے ہیں پورے مشرق وسطیٰ میں اپنی پالیسیوں میں ناکام ہو چکے ہیں تاہم ایسے حالات میں کوئی بھی نئی جنگ اسرائیل کے لئے شدید نقصان د ہ ہو گی۔یہ تجزیات اور تبصرے ایسے وقت میں سامنے آنا شروع ہوئے ہیں کہ جب غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے وزیر اعظم نیتن یاہو نے اپنے ایک بیان میں حزب اللہ کے سربراہ سید حسن نصر اللہ کو نشانہ بنانے کا اعلان کیا ہے تاہم ایسے وقت میں اسرائیل میں موجود متعدد ماہرین نفسیات جنگ کا کہنا ہے کہ یہ صیہونی غاصب ریاست اسرائیل کی تاریخ رہی ہے کہ جب جب حزب اللہ کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا ہے اس کے بعد آنے والی ہر قیادت اسرائیل کے شدید خطرے کی علامت ثابت ہوئی ہے تاہم اسرائیل کو ایسے حالات میں کسی نئی جنگ کو شروع کرنے کے بارے میں سوچنااحمقانہ اور خود کشی کرنے کے مترادف اقدام ہو گا۔

لبنان اور حزب اللہ کیخلاف اسرائیل کے کسی بھی نئی براہ راست جنگ کے خطرات سے متعلق حزب اللہ کی قیادت اور خاص طور پر سید حسن نصر اللہ نے اپنی تقاریر میں اسرائیل کو متنبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو کسی بھی نئی جنگ کی شروعات پر کہیں بھی امان نہیں ملے گی، انہوں نے حالیہ تقریر میں صیہونی مخالف نظریہ کے یہودیوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مقبوضہ فلسطین سے نکل جائیں کیونکہ اسرائیل کی غاصب حکومت ان یہودیوں کو جنگ کے ایندھن کے طور پر استعمال کرے گی اور اسلامی مزاحمت اسرائیل کے کسی بھی حملہ کے جواب میں خاموش نہیں بیٹھے گی۔

بہر حال خلاصہ یہ ہے کہ داعش کے خاتمہ اور شکست کے بعد امریکا و اسرائیل کی بوکھلاہٹ بڑھتی چلی جا رہی ہے اور جو کام وہ پہلے ماضی میں براہ راست نہ کر سکے تھے اب داعش جیسے سفاک دہشت گردوں کی مدد سے کرنا چاہتے تھے لیکن اس مرتبہ بھی ناکام ہوئے ہیں جبکہ اب سیاسی محاذ پر سعد حریری کی ناکامی کے بعد عرب لیگ کی طرف سے حزب اللہ کے خلاف دئیے جانے والے بیانات واضح طور پر اس بات کا ثبوت ہیں کہ امریکا، اسرائیل، خلیجی عرب ممالک سب کے سب سنہ 2006ء میں غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے شکست کے بعد سے حزب اللہ لبنان کو ختم کرنے کے در پہ ہیں اور خطے میں شروع کی جانے والی دہشت گرد گروہوں کی سفاکیت بھی در اصل حزب اللہ اور اس جیسی دیگرفلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریکوں بالخصوص حماس و دیگر کے خلاف سازش تھی جو کہ رفتہ رفتہ ناکامی کا شکار ہوئی ہے۔آج پوری دنیاامریکا، اسرائیل اور عرب ممالک ایک ایسی اسلامی مزاحمت کے خلاف محاذ آرائی کر رہے ہیں کہ جس نے نہ صرف فلسطین اور فلسطینیوں کی مدد میں خود کو سرفہرست رکھا ہے بلکہ دور حاضر میں انسانیت کی بقاء کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرتے ہوئے داعش جیسے شجرۂ خبیث کو نابود کرنے میں کردار ادا کیا ہے ۔امید قوی یہی ہے کہ اگر اسرائیل نے کوئی نئی جنگ شروع کی تو پھر وقت قریب ہے کہ اب یہ معرکہ یقیناًفلسطین اور قبلہ اول بیت المقدس کی آزادی پر ہی اختتام پذیر ہو گا۔