You are here: مقالاجات یروشلم بارے ٹرمپ کے اظہارات پر تبصرہ
 
 

یروشلم بارے ٹرمپ کے اظہارات پر تبصرہ

E-mail Print PDF

0Pala9417تحریر: سید اسد عباس

دنیا میں طاقتور وہ قوم ہے جس کے پاس علم ہے اور اس نے حاصل کردہ علم کو اپنے سماج کی ترقی کے لئے استعمال کیا ہے۔ معیشت کا میدان ہو، وسائل کی تلاش ہو، معاشرے کی اصلاح ہو، مصنوعات کی تیاری ہو، صحت کی دنیا ہو، اسلحہ سازی ہو، ذرائع رسل و رسائل میں جدت ہو یا کوئی اور شعبہ جن اقوام نے اپنے ان امور کا علم حاصل کیا اور اس علم کو عمل کی صورت دی، آج وہ ترقی یافتہ اقوام ہیں۔ ان کی یہ ترقی اگرچہ فقط مادی ترقی ہے، یعنی انہوں نے انسانی ذات کے اہم جنبہ روحانیت کو فراموش کر دیا، تاہم پھر بھی ترقی تو ترقی ہے، چاہے کھوکھلی ہی کیوں نہ اور سستی، کاہلی، کام چوری سے بہرحال بہتر ہے۔ فقط مادی ترقی کے نقصانات اپنی جگہ تاہم اس کے کچھ ثمرات بھی ہوتے ہیں، جو اس وقت ہمیں مغربی دنیا میں نظر آتے ہیں۔ اقوام کے عروج و زوال کا سلسلہ ازل سے چلتا آیا ہے، کبھی کوئی قوم اپنی علمی برتری کے سبب اپنا لوہا منواتی ہے تو کبھی کوئی دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے۔ گذشتہ دو سو سالوں سے قسمت کی دیوی اقوام مغرب پر مہربان ہے اور اقوام مشرق اس کے فیوض و برکات سے محروم ہیں۔ ایک وقت تھا کہ اقوام مشرق میں سے مسلمان بحیثیت ملت علمی میدان میں اپنا ثانی نہ رکھتے تھے۔ علم ریاضی، علم فلکیات، علم کیمیا، علم طب، علم فلسفہ، علم عرفان غرضیکہ سبھی علوم کے چشمے اسلامی دنیا میں رواں دواں تھے۔ مسلمانوں نے ان علوم سے بھرپور استفادہ کیا، تاہم اچانک یہ سفر تھم گیا اور مسلمان ریاست و طاقت کے کھیل میں اس قدر مشغول ہوئے کہ ان کا وقار رفتہ رفتہ قصہ پارینہ کی صورت اختیار کرتا گیا۔ آج ہم ان قصوں کو تاریخ کی کتابوں میں پڑھتے ہیں اور اپنے بچوں کو ان قصوں کے ذریعے مہمیز دینے کی کوشش کرتے ہیں۔

مغرب کی ترقی چونکہ مادی اور روحانیت سے عاری ترقی تھی، لہذا اس ترقی نے وسائل کی تلاش میں دیگر اقوام کے استحصال کا سلسلہ شروع کیا۔ اٹھارویں اور انیسویں صدی میں مغرب دنیا کے بیشتر علاقوں پر قابض ہوا۔ افریقہ اور ایشیاء کے بہت ہی کم ایسے علاقے تھے تو مغرب کے براہ راست یا بلواسطہ تسلط میں نہ آئے ہوں۔ بلاواسطہ تسلط کا خاتمہ اگرچہ بیسویں صدی کے آغاز سے ہوگیا، تاہم بلواسطہ تسلط آج بھی جاری ہے اور اس خوبصورتی سے یہ تسلط قائم ہے کہ نسلوں کی نسلیں اسی زعم میں زندگی گزار دیتی ہیں کہ ہم آزاد قوم ہیں۔ مغربی دنیا کے فریب اس قدر پر اثر اور طاقت ور ہیں کہ سوچنے والوں کو بھی گمان ہونے لگتا ہے کہ ہماری سوچ ہی غلط ہوگی بھلا یہ کیسے غلط ہوسکتے ہیں۔ امریکہ بہادر کی ہی مثال لے لیں۔ انسانی آزادیوں اور حقوق کے لئے اس کی کاوشیں کس سے کب چھپی ہوئی ہیں، امریکی سرکار انسانی فلاح کے کتنے منصوبوں پر کام کر رہی ہے، اقوام متحدہ کے انسانیت سے متعلق منصوبوں پر ہر سال لاکھوں ڈالر لگائے جاتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفاتر امریکہ میں قائم ہیں۔ اتنا عظیم کار خیر کرنے والا بھلا برا کیسے ہوسکتا ہے۔ امریکہ ہی تو تھا جس نے دنیا میں غلامی کے خلاف اقدامات کئے، یہی اس مسئلہ کو اقوام متحدہ میں لایا، دنیا میں جمہوریت کے قیام کے لئے امریکہ کی کوششیں، آمریتوں کے خلاف پابندیاں، آزادی صحافت کے لئے اقدامات، خواتین کے حقوق، مذہبی آزادی، بچوں کے حقوق، چائلڈ لیبر کے خلاف اقدامات، قحط و خشک سالی کے خلاف جہاد کسی بھی جدید نیکی کا نام لیجیے آپ کو اس میں امریکہ ہی امریکہ کا کردار نظر آئے گا۔ کسی مغرب زدہ ایشیائی یا افریقی سے پوچھیں تو سہی اس کی نظر میں اگر امریکہ نہ ہو تو دنیا میں کوئی خیر کا نام لیوا نہ ہو۔ سوال یہ ہے کہ پھر دنیا میں برائی کا اصل سرچشمہ کیا ہے۔؟

صدر بش نے ایک اصطلاح استعمال کی تھی Axis of Evil یعنی برائی کی جڑ، ہم سمجھے مذاق فرما رہے ہیں، حالانہ امریکہ کو حسن و خیر کی دیوی سمجھنے والوں کی نظر سے دیکھیں تو آپ کو علم ہوگا کہ وہ قوتیں جو امریکہ کی پالیسوں کی مخالف ہیں یا اسے قبول نہیں کرتیں، فی الحقیقت وہی تو برائی کی جڑ ہیں۔ وہی آمریت ہیں، وہی جمہوریت مخالف ہیں، وہیں انسانی حقوق میسر نہیں، وہیں مذہبی آزادیاں ناپید ہیں، وہی حقوق نسواں کا مسئلہ اپنی انتہائی کو چھو رہا ہے، وہیں چائلڈ لیبر بھی ہے۔ یہی ہے سامری کا بچھڑا جو حضرت موسٰی علیہ السلام کے دور میں سونے کا ایک مجسمہ تھا، تاہم آج اداروں، تنظیموں، نعروں، بیانات کی صورت میں ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ ساری دنیا اس بچھڑے کی پجاری ہے۔ یہی ایک آنکھ والے کی وہ جنت و جہنم ہے، جس کا تذکرہ انبیاء کی پیشین گوئیوں میں کیا گیا۔ ہر انسان کو مادیت کی آنکھ سے دیکھنے والا یہ عفریت دنیا کو فریب کی دنیا میں رکھے ہوئے ہے اور اپنی بنائی ہوئی جنت جو کہ درحقیقت ایک جہنم میں سب کو داخل کئے جا رہا ہے اور وہ جو اس کی جنت کو قبول نہیں کرتے، کو جہنم یعنی اپنے غیض و غضب کا شکار کر رہا ہے۔ افغانستان، عراق، شام، یمن، لیبیا کو یہ عفریت اپنا نشانہ بنا چکا، ان پر غیض و غضب کی آگ برسا چکا، آبادیاں کی آبادیاں تہس نہس کرتے ہوئے اپنے اگلے شکار کی جانب گامزن ہے۔ جنھوں نے اس کی جنت کو اپنا لیا، وہ ظاہراً عافیت سے ہیں، عیش و عشرت سے زندگی گزار رہیں اور جنھوں نے اس کے سامنے سر اٹھانے کی جرات کی، ان کا جو حال اس نے کیا، وہ کسی سے پنہاں نہیں ہے۔

اس عفریت کی خصوصیت یہ ہے کہ یہ خود اپنے عفریت ہونے کے بارے میں آگاہ نہیں۔ اسے نہیں معلوم کہ میں اپنی بے پناہ مادی خواہش کو پورا کرتے کرتے انسانیت کے لئے کس قدر مضر اور ضرر رساں بن چکا ہوں۔ یہ اپنی قبیح حرکات کو نیکی کے پردوں میں چھپاتا ہے، تاکہ کوئی اس کے عمل کو پہچان نہ سکے، درک نہ کرسکے، یعنی جھوٹ، فریب، دو رخی کا سہارا لیتا ہے۔ جیسے جیسے اپنے علم اور تجربہ کی بنیاد پر اسے علم ہوتا جا رہا ہے کہ دنیا میں اب اس کو انکار کرنے والی کوئی قابل ذکر طاقت نہیں رہ گئی تو وہ اپنے اصل چہرے سے نقاب پلٹ رہا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا یروشلم کو اسرائیل کا دارلخلافہ تسلیم کرنے اور امریکہ سفارتخانہ یروشلم لے جانے سے متعلق بیان اور امریکی عہدیداروں کا اس عمل کے لئے دلائل پیش کرنا بنیادی طور پر اس عفریت کا دنیا کے سامنے بے نقاب ہو کر آنا ہے۔ امریکہ نے آج دنیا کو بتا دیا کہ کون سے انسانی حقوق، کون سی مذہبی آزادی، کون سے عالمی قوانین، کون سی سرحدیں اور کون سے وعدے و قراردادیں۔ ہم اسرائیل جو کہ ایک ناجائز ریاست ہے اور اقوام متحدہ کی متعدد قراردوں میں متنازعہ حیثیت کی حامل ہے، کو اجازت دیتے ہیں کہ وہ اپنے مقبوضہ علاقے میں اپنا دارالخلافہ بنائے، ہم اس کے ساتھ ہیں۔ یعنی ایک آنکھ والا عفریت جس کے ساتھ ہے، وہ دنیا میں کچھ بھی کرسکتا ہے۔ کسی ملک پر قبضہ کرے، وہاں کے عوام کو گھروں سے بے دخل کرے، بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو قتل کرے، ان پر بمب برسائے، ان پر عرصہ حیات تنگ کر دے، ان کا محاصرہ کرے، اشیائے ضرورت ان تک نہ پہنچنے دے، مذہبی اجتماعات پر پابندیاں لگائے سب روا ہے۔

امریکہ یہ سب بہت عرصے سے کر رہا ہے، تاہم اس نے اپنا نقاب ہمیشہ قائم رکھا۔ ہم انسانی حقوق کے علمبردار، ہم جہوریت کے چیمپئین، ہم حقوق نسواں کے داعی، ہم آزادی اظہار کے نام لیوا، ہم دنیا کے نجات دہندہ، ہماری وجہ سے دنیا میں امن آتشی، ہمارے سبب برائی کے حوصلے پست۔ ایک عرصہ ہوا دنیا اس عفریت کے اس فریب میں جکڑی ہوئی تھی اور اس کی ہاں میں ہاں ملائے جا رہی تھی۔ اس نے دنیا بھر میں اپنے بہت سے حامی پیدا کئے، جو اس کی مانند ہی چھوٹے چھوٹے عفریت ہیں، جو اس کی سرپرستی میں انسانوں کا استحصال کر رہے ہیں۔ کچھ برہنہ ہیں اور کچھ پردہ میں۔ ہندوستان کشمیر میں ظلم کرتا ہے تو کون اس کا مددگار اور سرپرست ہے، یمن، بحرین، لیبیا، عراق، شام کے عوام پر ظلم ہوتا ہے تو اس کے پیچھے اصل قوت کون سی ہے۔ یہ پردہ ہٹنا بڑا مشکل تھا، تاہم ٹرمپ نے اپنے بیان کے ذریعے اس پردے کو چاک کر دیا۔ اب انہیں خوف نہیں کہ چھپ کر اپنے ایجنڈے کو آگے بڑھائیں۔ واضح طور پر کہہ دیا کہ یروشلم تمہارا دارالحکومت ہے۔ کشمیر میں قتل و غارت بھارت کا حق ہے۔ یمن پر بمباری کرتے رہو، ہم تمھارے ساتھ ہیں۔ جب تک تم ہمارے ساتھ ہو، جیسے چاہو اپنے اقتدار کو دوام بخشو، جتنی چاہے بمباری کرو، جتنا چاہے، خون بہاؤ، کوئی تم کو روکنے والا نہیں۔ سب ادارے، سب تنظیمیں، سب قراردادیں ہمارے کنٹرول میں ہیں۔ یہ ابرہہ کا وہ لشکر ہے جو طاقت کے نشے میں چور ہے، تاہم اسے نہیں معلوم کہ تائید ایزدی کے ساتھ ابابیل اس کے غرور کو خاک میں ملا سکتے ہیں۔