You are here: مقالاجات یروشلم کون آزاد کرائیگا، انٹرنیشنل لاء یا مسلح مزاحمت؟
 
 

یروشلم کون آزاد کرائیگا، انٹرنیشنل لاء یا مسلح مزاحمت؟

E-mail Print PDF

0Pala9526تحریر: عرفان علی


جب سے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مقبوضہ یروشلم یا بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرکے امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے یروشلم منتقل کرنے کا اعلان کیا ہے، مسئلہ فلسطین ایک اور مرتبہ شدت کے ساتھ عالمی سیاسی منظر نامے میں نمایاں طور ابھر کر سامنے آیا ہے۔ اس ایشو کے مختلف پہلو ہیں، جنہیں سمجھ لیا جائے تو مسلمانوں اور عربوں سمیت پوری دنیا کے فلسطین دوست افراد خود کو اس تہمت سے بچا سکیں گے کہ ان کا موقف محض جذبات پر مبنی ہے۔ امر واقعہ یہ ہے کہ فلسطین کا مقدمہ بہت ہی زیادہ مضبوط و مستحکم بنیادوں پر لڑا جا رہا ہے اور اسرائیل بنیادی طور پر ایک جعلی ریاست ہے، جو دھونس، دھاندلی اور دہشت گردی کی بنیاد پر غیر ملکی یہودیوں نے فلسطین پر قبضہ کرکے قائم کی تھی۔ جب مغربی ممالک ویسٹ پھالیہ نظام کے تحت عالمی نظام بنا رہے تھے، تب سے بھی اگر بات شروع کی جائے تو اقوام متحدہ کے قیام تک بھی اسرائیل نام کا کوئی علاقہ فلسطین یا کسی عرب سرزمین پر وجود نہیں رکھتا تھا۔ یہ یہودی نسل کی بنیاد پر نہ کہ مذہب کی بنیاد پر ایسے دہشت گردوں نے قائم کی، جو خود کو ایک سیکولر نظریئے صہیونیت کے پیروکار کہتے تھے۔ نسلی بنیادوں پر ہی جنوبی افریقہ کو تسلیم نہیں کیا جاتا تھا۔ دوسرا یہ کہ اقوام متحدہ کی رکنیت کی اس وقت پانچ شرائط تھیں اور اسرائیل نامی نسلی یہودی ریاست ان شرائط پر پورا نہیں اترتی تھی۔ اس موضوع پر یہ ناچیز ماضی میں تفصیل سے ماہنامہ منتظر سحر میں لکھ چکا ہے، اس کے علاوہ ہفت روزہ نوائے اسلام، روزنامہ ایکسپریس اور اسلام ٹائمز پر بھی فلسطین کے حوالے سے میری تحریریں موجود ہیں، لیکن اس تحریر میں صرف یروشلم اور انٹرنیشنل لاء کی نظر میں اس کی حیثیت پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

ناقابل فراموش نکتہ یہ ہے کہ مسلمان یا عرب ممالک ہی نہیں بلکہ موجودہ عالمی نظام جو اقوام متحدہ کی مرکزیت کے تحت دنیا پر نافذ ہے، اس کے قوانین کے مطابق بھی یہ مقدس شہر اسرائیل کا حصہ نہیں ہے۔ یروشلم جسے عالم اسلام و عرب میں بیت القدس کہا جاتا ہے، اس پر اسرائیل نے جون 1967ء کی جنگ کے نتیجے میں قبضہ کیا تھا۔ جب 29 نومبر1947ء کو اقوام متحدہ نے قرارداد نمبر 181 کے ذریعے فلسطین کی دو حصوں میں تقسیم کا منصوبہ پیش کیا تھا تو اس میں یروشلم یا بیت المقدس کی بین الاقوامی حیثیت کا تعین کر دیا تھا اور اس شہر کے لئے اقوام متحدہ نے لاطینی الفاظcorpus separatumیعنی ’’جدا وجود‘‘ استعمال کئے تھے۔ غیر ملکی یہودیوں کی اکثریت پر مشتمل صہیونیوں نے پولینڈ میں پیدا ہونے والے ڈیوڈ بن گوریان کی قیادت میں نئی یہودی نسلی ریاست کے قیام کا اعلان کیا تھا تو اس میں بالفور اعلامیہ اور اسی قرارداد نمبر 181 کا حوالہ بھی دیا تھا کہ اس کے تحت اسرائیلی ریاست قائم کی جا رہی ہے۔ اقوام متحدہ کی رکنیت کے لئے اس کی رکنیت کی درخواست پر ایک مرتبہ تو شنوائی ہی نہیں ہوئی، دوسری مرتبہ اسے مسترد کر دیا گیا اور وجہ یہی تھی کہ یروشلم کے بارے میں یہودی ریاست کی نیت پر شک تھا، لیکن تیسری مرتبہ درخواست کو قبول کر لیا گیا، کیسے کیا گیا، اس پر ماضی میں بھی لکھا جاچکا ہے اور آئندہ بھی ان شاء اللہ لکھا جائے گا، فی الوقت توجہ یروشلم کی حیثیت پر مرکوز رکھتے ہیں۔

11 دسمبر 1948ء کو بھی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد 194 منظور کرکے یروشلم کی جدا حیثیت پر زور دیا۔ 9 دسمبر 1949ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد نمبر 303 منظور کی، جس کے تحت یروشلم کی بین الاقوامی حیثیت اور اس پر اقوام متحدہ کی ٹرسٹی شپ کی ایک اور مرتبہ توثیق کی گئی۔ ان قراردادوں کے باوجود 16 دسمبر کو اسرائیلیوں کے بابائے قوم ڈیوڈ بن گوریان جو پہلے وزیراعظم بھی تھے، انہوں نے اپنا دفتر یروشلم منتقل کر دیا۔ 20 دسمبر کو اقوام متحدہ کی ٹرسٹی شپ کاؤنسل نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ یروشلم سے تمام دفاتر ہٹا لے، کیونکہ یہ ان وعدوں کی خلاف ورزی پر مبنی ہے، جو اس نے اقوام متحدہ کے ساتھ کئے تھے۔ اسرائیل نے 31 دسمبر کو مذکورہ کاؤنسل کو تحریری طور مطلع کر دیا کہ وہ اپنے فیصلے سے دستبردار نہیں ہوگا۔ اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسیٹ نے 23 جنوری 1950ء کو اپنے طور سے اس کو رسمی حیثیت دینے کا اعلان کر دیا کہ یروشلم اسرائیل کا دارالحکومت ہے۔ البتہ عملی طور پر اس نے یروشلم کے مغربی حصے میں اپنے سرکاری دفاتر قائم کئے تھے۔ لیکن جون 1967ء کی جنگ کے بعد اس نے سارے یروشلم کو دارالحکومت قرار دے دیا۔ 11 جون 1967ء علی الصبح یروشلم کے مغربی حصے میں آباد فلسطینیوں کو اسرائیلی دستوں نے تین گھنٹوں کے اندر گھر خالی کرنے کا حکم دے دیا اور اس کے بعد تمام مکانات اور دو مساجد کو بلڈوز کر دیا۔ کم از کم 132 فلسطینی خاندانوں کو یوں جنگ کے خاتمے کے اگلے روز بے گھر کر دیا گیا۔ 18 جون 1967ء سے تمام فلسطینیوں کو شہر قدیم سے نکالنا شروع کر دیا۔ 27 اور 28 جون 1967ء کو اسرائیلی پارلیمنٹ نے تین اسرائیلی قانونی احکامات جاری کرتے ہوئے مشرقی یروشلم پر بھی اسرائیلی قوانین لاگو کر دیئے اور پورے یروشلم کو ایک ہی میونسپل حد قرار دے دیا ۔ 4 جولائی 1967ء کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد نمبر 2253 منظور کی، جس میں اسرائیل سے ان سارے اقدامات کو واپس لینے اور مزید تبدیلیوں سے منع کیا گیا۔ سکیورٹی کاؤنسل نے 1968ء میں قرارداد نمبر 252 کے تحت اسرائیل کے یروشلم سے متعلق اقدامات کو غیر قانونی قرار دیا۔

سکیورٹی کاؤنسل نے1967ء میں قرارداد 242 بھی منظور کی تھی، جس میں اسرائیل سے کہا گیا تھا کہ وہ 4 جون 1967ء کی حدود تک دستبردار ہو جائے، لیکن 30 جولائی 1980ء کو اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر توسیعی قبضے کو بھی رسمی حیثیت دے دی۔ یاد رہے کہ 17 دسمبر 1967ء سے اسرائیل نے فلسطینی علاقے یعنی دریائے اردن کے مغربی کنارے کو مغربی کنارہ کہنا بھی ترک کر دیا اور اسے عبرانی ناموں یہودیہ و سامریہ قرار دیا، جبکہ 19 فروری 1968ء سے اسرائیلی قبضے میں آئے ہوئے نئے مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو ’’دشمن کا علاقہ‘‘ ماننا بھی ختم کر دیا۔ یہ اصطلاح اس لئے استعمال کی جاتی تھی کہ یہ مقبوضہ علاقے اسرائیل کا حصہ نہیں بلکہ جنگ کے نتیجے میں قبضہ کئے گئے دشمنوں کے علاقے تھے۔ دلچسپ نکتہ یہ ہے کہ پاکستان کی مقننہ (پارلیمنٹ) کے ایوان بالا یعنی سینیٹ میں امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے یروشلم سے متعلق فیصلے کے خلاف جو قرارداد منظور ہوئی، اس میں بھی ٹرمپ کے اعلان کو عالمی قوانین اور اقوام متحدہ کی سکیورٹی کاؤنسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی قرار دیا۔ سینیٹ کی قرارداد میں خاص طور پر قرارداد نمبر 478 اور 2334 کا حوالہ دیا گیا۔ 20 اگست 1980ء کو قرارداد نمبر 478 میں اس سے پچھلی قرارداد 476 کا حوالہ بھی دیا گیا، جس پر اسرائیل نے عمل نہیں کیا۔ 30 جون 1980ء کو قرارداد 476 منظور کی گئی تھی، جس میں 1968ء کی قرارداد 252، 1969ء کی قراردادوں 267 اور 271، 1971ء کی قرارداد 298 اور یکم مارچ 1980ء کی قرارداد نمبر 465 کے ریفرنس بھی شامل تھے۔ ہر قرارداد میں اسرائیل کو قابض طاقت اور جون 1967ء سے زیر قبضہ علاقوں بشمول مشرقی یروشلم (بیت المقدس) مقبوضہ علاقہ قرار دیا گیا۔

اقوم متحدہ کی ان قراردادوں کی رو سے اسرائیل کے قانونی یا انتظامی فیصلوں کی انٹرنیشنل لاء میں کوئی قانونی حیثیت نہیں اور یہ فورتھ جنیوا کنونشن میں تسلیم شدہ ان حقوق کی بھی خلاف ورزی ہے، جو جنگ کے وقت شہریوں کے تحفظ سے متعلق ہیں۔ ان قراردادوں میں یروشلم کے مقدس شہر کی تاریخی، جغرافیائی یا ڈیموگرافی کی تبدیلی پر مبنی ہر اسرائیل عمل کو کالعدم قرار دیا گیا ہے اور ساتھ ہی اسے مشرق وسطٰی کے جامع، عادلانہ اور پائیدار امن کے قیام میں سنجیدہ رکاوٹ قرار دیا ہے۔ قرارداد 2334 پر میری تحریر اسلام ٹائمز پر 9 جنوری2017ء کو ’’اسرائیل کے خلاف ایک اور کھوکھلی قرارداد‘‘ کے عنوان سے پیش کی گئی تھی۔ اس تحریر میں یہ ناچیز وہ وجوہات بتاچکا ہے کہ یہ قراردادیں کیوں آتی ہیں اور اس پر عمل کیوں نہیں ہوتا۔ فلسطین کے حوالے سے جو نکتہ یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ اس خطے کے لئے فلسطین کا نام ہی طول تاریخ میں استعمال ہوتا رہا ہے، البتہ یہاں مختلف ادوار میں مختلف حکمرانوں کی حکومتیں رہی ہیں۔ عرب شناخت مذہبی شناخت نہیں ہے بلکہ لسانی شناخت ہے، جس میں مسلمان اور مسیحی دونوں شامل ہیں، جبکہ لفظ فلسطینی کا اطلاق عربوں اور یہودیوں دونوں پر کیا جاسکتا ہے، کیونکہ جو یہودی فلسطین میں ہی آباد رہے، وہ فلسطینی یہودی تھے اور ہیں۔ نہ تو صہیونی تحریک کے قائدین بشمول تھیوڈور ہرزل فلسطینی یہودی تھے اور نہ ہی اسرائیل کا بانی ڈیوڈ بن گوریان فلسطینی یہودی تھا۔ اسرائیل واحد ریاست ہے جو ایسی سرزمین پر قائم کی گئی، جو قائم کرنے والوں کی اپنی سرزمین نہیں تھی بلکہ وہ یورپی ممالک کے شہری تھے اور یورپی معاشروں میں انہیں شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ یورپ کے صلیبی ذہنیت کے لوگوں نے اپنے معاشرے کا گند فلسطین میں لا پھینکا کہ جہاں اکثریت آبادی عرب تھی۔ اب یہ نسل پرست اسرائیلی فلسطینیوں کے لئے یونین کاؤنسل جتنے اختیارات سے زیادہ کے قائل نہیں ہیں۔ آج بھی یروشلم میں فلسطینیوں کے گھر مسمار کئے جاتے ہیں بلکہ ایسا کالا قانون بنا دیا ہے کہ بغیر اسرائیلی اجازت کے جو بھی عرب فلسطینی گھر تعمیر کرے گا، اس کا جرمانہ ادا کرنے کے باوجود اسے خود گھر مسمار کرنا ہوگا، ورنہ اسرائیلی میونسپل حکام لاکھوں روپے کا بل بنا کر انکے گھر مسمار کرتے ہیں۔ یہ حالت ہے آج یروشلم میں فلسطینی عربوں کی۔!

یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ فلسطینی عربوں کے حقوق غصب کرنے کے لئے طول تاریخ میں نئے حقائق تخلیق کئے گئے، جس کا سلسلہ آج تک جاری ہے۔ یروشلم پر اسرائیل کا عملی قبضہ بھی ایک نئی حقیقت ہے، جو جنگ کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ اس نکتے کو صرف لبنان کی حزب اللہ یا اس کے اتحادیوں نے سمجھا ہے اور وہ اسی سمت میں مقاومت کر رہے ہیں کہ اس خطے میں نئے حقائق تخلیق کرکے اسرائیل کو بتدریج نابود کریں۔ فلسطین کی مقاومتی تحریکیں حزب جہاد اسلامی، حماس و دیگر بھی اسی نتیجے پر پہنچ چکے ہیں۔ یقیناً یہ مقابلہ برابر کا نہیں ہے، حزب اللہ یا حماس سمیت یہ لبنان و فلسطین کی قومی مزاحمتی تحریکوں کے پاس ایسا جدید اسلحہ اور اتنی مقدار میں نہیں ہے، لیکن لبنان کی دفاعی جنگیں اور مختلف اوقات میں غزہ کے مزاحمت کاروں کی دفاعی جنگیں یا اسرائیلی فوجیوں کو اغوا کرکے مطالبات منوانے کے کامیاب تجربات نے یہ حقیقت دنیا کے سامنے روشن کر دی ہے کہ اسلحے اور افرادی قوت کی کمی کو حوصلوں میں بے پناہ اضافہ کرکے اور اللہ پر توکل کرکے نتیجہ اللہ پر چھوڑ دینے سے بھی جنگوں کو جیتا جا سکتا ہے۔ اسرائیل نے انٹرنیشنل لاء کو کھوکھلی تحریر سمجھ رکھا ہے۔ اقوام متحدہ یا عالمی برادری کی ان قراردادوں میں موجود کوئی مطالبہ، اسرائیل نے مانا ہی کب ہے! اسرائیل اور اس کے سرپرست امریکہ کا یہی غیر انسانی طرز عمل اور غاصبانہ قبضہ اور اس کی حمایت ہی ہے، جس کے نتیجے میں حزب اللہ، حماس، حزب جہاد اسلامی جیسی تحریکیں معرض وجود میں آئیں۔

مئی 1948ء سے 1967ء تک اور جون 1967ء کی جنگ کے بعد سے آج تک پیش آنے والے واقعات و حادثات کی روشنی اور خاص طور پر انقلاب اسلامی ایران کی کامیابی کے بعد سے جو کچھ اس خطے میں وقوع پذیر ہوا ہے، اس سے ہم یہ رائے قائم کرنے پر خود کو مجبور پاتے ہیں کہ مسلح مقاومت ہی ان نئے حقائق کو جنم دے گی کہ جن کے تحت فلسطین کی آزاد و خود مختار ریاست قائم ہوگی اور اس کا دارالحکومت بیت المقدس ہوگا۔ ورنہ اقوام متحدہ نے تو ٹرمپ کے فیصلے سے چند روز قبل بھی قرارداد منظور کی تھی، 1967ء سے منظور کی جانے والی قراردادوں کے باوجود یروشلم یعنی بیت المقدس آج تک اسرائیلی قبضے سے آزاد نہیں ہوسکا ہے، یعنی پوری نصف صدی قراردادوں اور سفارتکاری پر گزر گئی، لیکن مسئلہ حل نہ ہوسکا۔ انقلاب اسلامی ایران آیا اور لبنان میں حزب اللہ بنی تو جنوبی لبنان کے بڑے حصے سے اسرائیل قبضہ چھوڑ کر فرار ہوگیا اور آج تک اس خطے میں امریکہ، اسرائیل اور ان کے عرب اتحادی ایران کو اپنی ناکامی کا ذمے دار قرار دیتے آئے ہیں۔ سمجھنے کے لئے یہ ایک مثال ہی کافی ہے۔ ورنہ دوسری مثال بھی ہے کہ اگر تحریک انتفاضہ اول نہ ہوتی اور حماس نہ بنتی تو امریکہ اور اسرائیل مجبور ہوکر یاسر عرفات کی تنظیم آزادی کو مغربی کنارہ اور غزہ کی پٹی کی یونین کاؤنسل سطح کی حکمرانی بھی نہ دیتے! انٹرنیشنل لاء کے آسرے پر تو مغربی کنارے کا اکسٹھ فیصد علاقہ بھی آج تک اسرائیل کے قبضے میں ہے اور مزید قبضے کے لئے ان یہودی بستیوں کی تعمیر آج بھی جاری ہے کہ جنہیں انٹرنیشنل لاء اور عالمی برادری غیر قانونی قرار دیتے ہیں۔ چلتے چلتے تیسری مثال بھی حاضر خدمت ہے کہ صبرا و شتیلا میں فلسطینیوں کا قتل عام کرنے والا ایریل شیرون غزہ سے اسرائیل کے انخلاء پر اس لئے مجبور ہوا کہ تحریک انتفاضہ دوم اپنے عروج پر تھی۔ یہ انخلاء یکطرفہ تھا یعنی اسرائیل کوئی شرط پیش کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھا کہ اگر میری یہ شرط مانو گے تو جنوبی لبنان یا غزہ سے انخلاء کروں گا۔!