You are here: مقالاجات فلسطین ۔۔۔اعلان بالفور اور اعلان ٹرمپ
 
 

فلسطین ۔۔۔اعلان بالفور اور اعلان ٹرمپ

E-mail Print PDF

0Pala9599تحریر: صابر ابو مریم


سرزمین فلسطین کہ جوہمیشہ سے ہی انبیاء علیہم السلام کی آمد کا مرکز ومحور بنی رہی اور آج بھی اس سرزمین مقدس پر نہ صرف مسلمانوں کا قبلہ اول موجود ہے بلکہ مسیحی مقدس مقامات اور چرچ بھی موجود ہیں، اسی سرزمین مقدس کے ساتھ ایک سو سال قبل ایک ایسی گھناؤنی سازش کی گئی کہ جس کے نتیجہ میں برطانوی سامراج نے اس سرزمین مقدس پر ایک جعلی ریاست بنام اسرائیل وجود میں لا کر نہ صرف مسلمانوں کے قلب میں خنجر گھونپ ڈالا بلکہ دنیا بھر کے مسیحیوں کے خلاف بھی ایک ایسی سازش تیار کی کہ جس کو آج تک جھیلا جا رہا ہے۔

صیہونیوں نے فلسطین پر اپنے غاصبانہ تسلط کے لئے انیسوی صدی کے وسط میں ہی منصوبہ بندی کر لی تھی اور صیہونی ناجائز ریاست کے قیام کے لئے زمینہ سازی کرنے لکے لئے دنیا کو دو عالمی جنگوں کا سامنا کرنا پڑا جس مین نہ صرف بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ہوا بلکہ صیہونیوں نے ایسا ماحول بھی بنایا کہ دنیا بھر کے یہودیوں کو فلسطین ہجرت کروائی جائے جس میں اہم ترین واقعات ہمیں جرمنی کی تاریخ میں ملتے ہیں کہ جہاں ان صیہونیوں کی شر انگیزیوں سے نمٹنے کے لئے ہٹلر کو اقدامات کرنا پڑے جسے آج صیہونی ہولو کاسٹ کانام دیتے ہیں جو کہ ایک افسانہ سے بڑھ کر نہیں۔

بہر حال یہ اس زمانے کی بات ہے کہ جب یہودی محفلوں کا اہم رکن لارڈ جارج برطانیہ کا وزیر اعظم بن گیا اور 1922 تک اس عہدے پر باقی رہا۔ اس نے جیمز بالفور کو وزیر خارجہ منصوب کیا۔ یہی وہ شخص تھا جس نے بالفور اعلامیہ کے ذریعہ صہیونی ازم کو سرکاری سطح پر شروع کیا۔اس سال میں جب جنگ کی کامیابی کا یقین ہوگیا تو امریکہ بھی جنگ میں شامل ہوگیا تاکہ بعد میں اپنے مطالبات کو پیش کر سکے۔ یہی طریقہ اس نے دوسری عالمی جنگ میں بھی اپنایا۔

سنہ 1917ء سب سے اہم اور تقدیروں کو تبدیل کرنے والا سال تھا۔اسی سال میں امریکہ نے آئندہ یہودی شوریٰ کے لیے راہ ہموار کی۔ اس شوریٰ نے یہودیوں کے لیے بہت بڑے بڑے پروگرام بنائے۔ اس کا نام شورای روابط خارجی تھا۔ اس شوریٰ میں دو سو امریکی یہودی سرمایہ دار شامل تھے۔ بیسویں صدی کے آخر تک اس شوریٰ کے اراکین کی تعداد 2500 تک پہنچ گئی۔ سب مل کر امریکہ کو چلا رہے تھے۔ ابتدا میں اس شوریٰ پر مورگان خاندان کا قبضہ تھا لیکن بعد میں راکفلر خاندان اس پر قابض ہوگیا۔ 1972 میں تین کمیٹیاں بنائی گئیں جن کے ذمہ نیو ورلڈ آرڈرتیار کرنے اور اسے عملی بنانے کی ذمہ داری لگائی گئی۔

1917 میں روس کی داخلی صورت حال خراب تھی۔ حکومت اور فوج کمزور پڑ چکی تھی۔ جنوبی روس میں مسلمان بھی تحریک چلا رہے تھے۔ یہودیوں اور کیمونسٹوں نے اس خراب صورتحال سے فائدہ اٹھایا اور بعض واقعات کے بعد کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے روس میں مارکسی اور کمیونیزم کا نظام نافذ کر دیا۔ نزار روس کا نام تبدیل کر کے سوشلسٹ سوویت یونین رکھ دیا گیا۔ جنگ میں شرکت پر پابندی عائد کر دی گئی۔ یہ تمام واقعات اور ان کے نتیجہ میں رونما ہونے والی تبدیلیاں یہودیوں اور برطانیہ کے فائدے میں تھیں۔اس میں سب سے اہم بالفور اعلامیہ تھا، جسے برطانیہ کے وزیر خارجہ نے اعلان کیا اور اس کے بعد عملی طور پر فلسطین پر قبضہ شروع ہوگیا۔ بالفور اعلامیہ یوں تھا۔

لارڈ روچیلڈ عزیز: انتہائی مسرت کے ساتھ اعلیٰ حضرت کی حکومت کی نمائندگی کرتے ہوئے، صہیونی یہودیوں کی حمایت میں کابینہ اور پارلیمنٹ میں منظور ہونے والی قرارداد پیش کر رہا ہوں: اعلیٰ حضرت کی حکومت ، فلسطین میں قوم یہود کے لیے ایک قومی وطن کی تشکیل کو اچھی نگاہ سے دیکھتی ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کی خاطر حکومت ہر طرح کا تعاون کرے گی۔ البتہ غیر یہودی افراد جو فلسطین میں رہ رہے ہیں ان کے سماجی اور مذہبی حقوق کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھایا جائے گا۔ دوسرے ممالک میں رہنے والے یہودیوں کے حقوق اور ان کی سیاسی حیثیت کو ہر چیز پر ترجیح دی جائے گی۔ صہیونی فیڈریشن میں اس اعلامیہ کو بیان کرنے پر ہم آپ کے مشکور ہونگے۔ آپ کا عقیدت مند ۔آرتھرر جیمز بالفور ۔

یہ وہ اعلان بالفور ہے کہ جس کی بنیاد پر بالآخر فلسطین کی سرزمین پر غاصب صیہونی ناجائز ریاست کو وجود دیا گیا یہ وہ منحوس اعلامیہ تھا کہ جس کے باعث سنہ1948ء میں لاکھوں فلسطینیوں کو تباہی و بربادی کا سامنا کرنا پڑا، آج بھی فلسطینیوں کی تیسری نسلیں ملک بدر ہیں اور وطن واپس جانے کی منتظر ہیں یہ اعلان بالفور اس بات کی کلید بنا تھا کہ صیہونیوں نے دوسری جنگ عظیم کا ماحول بنایا، اس کے بعد فلسطین پر غاصبانہ تسلط قائم کرتے ہی ایک ہی دن میں 15مئی سنہ1948ء کو لاکھوں فلسطینیوں کو ان کے ؂گھروں سے نکال باہر کیا اور جبری جلا وطنی پر مجبور کیا جس کے بعد یہ ہجرت پر مجبور فلسطینی شام، لبنان، اردن اور مصر کی طرف چلے گئے جہاں آج بھی ان کی نسل نو مہاجر بستیوں میں زندگی گذار رہی ہے۔

حالیہ دور میں فلسطین کے مسئلہ پر دنیا کو ایک اور بالفور جیسے خطر ناک اور سفاک اعلان کا سامنا ہے کہ جس طرح لاکھوں فلسطینیوں کو برطانوی استعمار نے صیہونیوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا تھا اسی طرح آج امریکی صدر نے اپنے ایک اعلان میں فلسطین کے شہر یروشلم کہ جو نہ صرف مسلمانوں کا مقدس شہر ہے بلکہ مسیحی عوام کے لئے مقدس ہے ، اس شہر کو غاصب صیہونی جعلی ریاست اسرائیل کا دارلحکومت بنانے کا اعلان کیا ہے ، حیرت اس بات کی ہے کہ ایک سو سال قبل برطانوی حکومت نے فلسطین کے عوام کی تباہی اور بربادی کا پروانہ جاری کیا تھا اور آج دور حاضر کا شیطان بزرگ امریکا بھی اسی نقش قدم پر چلتے ہوئے فلسطین کے مستقبل اور اس کے عوام کے حقوق پر ایک اور شب خون مار رہاہے ۔1917ء میں فلسطینیوں کے خلاف پیش کیا جانے والا ’’اعلان بالفور‘‘ ایک ناقابل رحم اور ناقابل معافی جرم ہے اسی طرح امریکی صدر کا اعلان 2017ء بھی ناقابل معافی جرم ہے جبکہ اس اعلان کو دنیابھر نے مسترد کر دیا ہے ۔ا سکے باوجود امریکا اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے اور اس فیصلہ کو واپس لینے کے بجائے ضد اور ہٹ دھرمی سے کام لے کر دنیا کو باور کروا رہاہے کہ دنیا کے بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کی قرار دادیں اورانسانی حقوق کا تحفظ امریکی حکومت کے فیصلوں کے سامنے کوئی معنی نہیں رکھتے در اصل امریکی ہٹ دھرمی نہ صرف فلسطین کاز کے خلاف جارحیت ہے بلکہ پوری دنیا کی اقوام کی تذلیل و توہین کے مترادف بھی ہے۔

خلاصہ یہ ہے کہ اعلان بالفور ہو یا اعلان ٹرمپ در اصل دونوں ہی غیر قانونی اور بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہیں ، آخر کس نے برطانوی سرکار کو یہ حق دیا تھا کہ وہ فلسطین میں صیہونی غاصب ریاست قائم کرے ؟ اگر چہ برطانوی حکومت اس وقت علاقے میں ایک فلسطین کی کفالت پرست ریاست بھی تھی لیکن اس کو یہ حق حاصل نہ تھا کہ وہ کسی اور سرزمین پر کہ جس کی وہ خود مالک بھی نہیں وہاں پر کسی تیسرے کو نئی ریاست قائم کرنے کی اجازت دے، اور اب امریکی صدر کو کس نے یہ اختیار دیا ہے کہ وہ فلسطین کے ابدی دارلحکومت القدس کو غاصب صیہونیوں کی گود میں ڈال دے؟ فلسطین کی قسمت کا فیصلہ فلسطینیوں کا حق ہے نہ کہ امریکا ، برطانیہ یا کسی اور استعماری قوتوں کا کہ وہ فلسطین سے متعلق جو چاہیں فیصلہ کریں، اگر برطانیہ اور امریکا کو صیہونیو ں سے اتنی ہی ہمدردی ہے تو کیوں نہیں برطانیہ میں ایک زمین کا ٹکڑا انہیں دے کر یہودی ریاست اسرائیل کا قیام عمل میں لاتے ؟ اور کیوں امریکی صدر ٹرمپ واشنگٹن کو اس اسرائیل کا دارلحکومت قرار نہیں دیتے، اگر برطانیہ او ر امریکا یہ اقدام اٹھا لیں تو یقیناًکسی بھی دنیا کے ملک کو اس فعل پر اعتراض نہ ہو گا۔