You are here: مقالاجات ایرانی عدالت سے اسرائیلی جاسوس کو سزائے موت کا حکم
 
 

ایرانی عدالت سے اسرائیلی جاسوس کو سزائے موت کا حکم

E-mail Print PDF

0Pala9659تہران (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی جمہوریہ ایران کے پراسیکیوٹر جنرل نے اسرائیل کے لیے جاسوسی کے الزام میں سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق تہران کے پراسیکیوٹر جنرل عباس جعفر دولت آبادی بے بتایا کہ ایمرجنسی طب کے شعبے کے ڈاکٹر اور یونیورسٹی استاد احمد جلال کو غیرملکی انٹیلی جنس ادارے کے ساتھ  آٹھ بار رابطے کے اعتراف کے بعد سزائے
موت کا حکم دیا ہے۔

دولت آبادی نے بتایا کہ انہوں نے زیرحراست پروفیسر احمد جلالی سے جیل میں ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مسٹر جلالی نے بتایا کہ اس نے آٹھ بار ایک غیرملکی انٹیلی جنس ادارے کے ساتھ رابطہ کیا۔ ان رابطوں میں انہوں نے وزارت دفاع اور توانائی ایجنسی کے مختلف منصوبوں کے بارے میں اسرائیلی خفیہ ادارے’موساد‘ کو معلومات فراہم کیں۔ ان معلومات کی فراہمی کے عوض انہیں بھاری رقوم ادا کی گئی۔

احمد جلالی کے اعترافات ایران کے سرکاری ٹی وی پر نشر کیے گئے۔ اس کے بعد انہیں ایک دشمن ملک کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون کے جرم میں قصور وار قرار دیتے ہوئے سزائے موت کا حکم دیا ہے۔

ڈاکٹراحمد رضا جلالی نے کہا کہ جب وہ یورپ میں تدریس کے فرائض انجام دے رہا تھا تب بھی اس کے غیرملکی انٹیلی جنس اداروں کےساتھ روابط تھے۔

اخبار انڈی پنڈینٹ کی رپورٹ کے مطابق ایرانی حکام نے ڈاکٹر جلالی کو رواں سال اپریل میں اس وقت حراست میں لیاتھا جب وہ اپنے خاندان سے ملنے تہران آئے تھے۔ خدشہ ہے کہ اگلے دو ہفتوں کے دوران انہیں دی گئی سزائے موت پرعمل درآمد کیا جائے گا۔

ایران میں اسرائیل اور کسی دوسرے ملک کے لیے جاسوسی کے جرم میں گرفتار یہ پہلی شخصیت نہیں۔ اس وقت بھی ایرانی جیلوں میں امریکا، اسرائیل اور برطانیہ کےلیے جاسوسی کے الزامات میں کئی ملزمان حراست میں ہیں۔