You are here: حماس آزادی فلسطین کے لیے ’امن عمل‘ اور اسرائیل سے تعلقات ختم کیے جائیں : حماس
 
 

آزادی فلسطین کے لیے ’امن عمل‘ اور اسرائیل سے تعلقات ختم کیے جائیں : حماس

E-mail Print PDF

0Pala9751غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی شعبے کے سربراہ اسماعیل ھنیہ نے کہا ہے کہ قضیہ فلسطین کو’درست‘ ٹریک پرلانے اور مسئلے کو اس کے اصل کی طرف موڑنے کے لیے اسرائیل کے ساتھ تعلقات اور نام نہاد امن عمل کو ختم کرنا ہوگا۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل کی جانب سے مشرقی اور مغربی القدس کو یکجا کرنے کے نام نہاد قانون کی منظوری پر اپنے رد عمل میں کہا کہ فلسطینی قوم کو امریکا اور اسرائیل کے اقدامات کو ناکام بنانے کے لیے  مربوط اور ٹھوس حکمت عملی  اختیار کرنا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ وطن عزیز کیا آزادی کے پروگرام کو درست سمت پر واپس لانے کے لیے اندرون ملک جاری قومی انتفاضہ پر توجہ مرکوز کرنا ہوگی۔ فلسطینی قوم کی تحریک آزادی کو عالمی برادری کی طرف سے بھرپور پذیرائی حاصل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالم اسلام  اور عرب دنیا کی طرف سے بھی تحریک آزادی اور فلسطینی قومی مزاحمت کے لیے حمایت حاصل کرنا ہوگی۔

اسماعیل ھنیہ کا کہنا تھا کہ فلسطینی قوم کو ایک ایسی حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی جس کے نتیجے میں اسرائیل اور امریکا کے اقدامات کو ناکام بنایا جاسکے۔ اس کے لیے دو اہم اقدامات ناگزیر ہیں۔ اول یہ کہ نام نہاد امن عمل کا بائیکاٹ کیا جائے اور دوم اسرائیل کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات اور روابط ختم کردیے جائیں۔ فلسطینی اتھارٹی اسرائیل کے ساتھ سیکیورٹی تعاون سمیت تمام دو طرفہ اقدامات منسوخ کردے۔

فلسطینی اتھارٹی کو یہ ادراک کرنا ہوگا کہ فلسطین کے تصفیے کے لیے کئی سال تک جاری رہنے والی نام نہاد امن عمل کی مشق ناکام ہوچکی ہے اور اس پر اعتبار کرنے کا کوئی جواز نہیں رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ عالمی اور علاقائی سطح پر اسرائیل کے بائیکاٹ کی مہم چلائی جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹرمپ کے القدس بارے فیصلے کے بعد صیہونی ریاست کو قبضے اور توسیع کے لیے ایک نئی طاقت ملی ہے۔ صیہونی ریاست نے پہلے کی نسبت زیادہ ڈھٹائی کا مظاہرہ کرتے ہوئے فلسطین میں غاصبانہ کارروائیوں میں اضافہ کردیاہے۔ فلسطینیوں کے پاس اسرائیلی جرائم کی روک تھام کے لیے قومی مزاحمت اور عالمی محاذ کو متحرک کرنے کے سوا اور کوئی راستہ نہیں بچا ہے۔