You are here: حماس فلسطین کا دفاع صرف مسلح جہاد سے ممکن ہے: العاروری
 
 

فلسطین کا دفاع صرف مسلح جہاد سے ممکن ہے: العاروری

E-mail Print PDF

0Pala9757دوحہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی شعبے کے نائب صدر صالح العاروری نے کہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے ماتحت سیکیورٹی اداروں کے ذریعے غرب اردن میں مزاحمت کاروں پر پابندیاں عائد کرکے علاقے میں صیہونی ریاست کو اپنے خونی پجنے گاڑھنے کا موقع دیا گیا۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق قطر سے نشریات پیش کرنے والے’الجزیرہ‘ ٹی وی کو دیے گئے انٹرویو میں العاروری نے کہا کہ اسرائیل کی حکمراں جماعت ‘لیکوڈ‘ کا غرب اردن کو اسرائیل میں ضم کرنے کا فیصلہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان القدس سے کم خطرناک نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ غرب اردن کے اسرائیل میں الحاق کا فیصلہ ٹرمپ کے اعلان کے اثرات ہیں۔ ٹرمپ نے اعلان کے بعد اسعرائیل کو غب اردن اور بیت المقدس میں صیہونی آباد کاری اور توسیع پسندی کے لیے بے لگام چھوڑ دیا گیا۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے اسرائیل کی حکمراں جماعت ’لیکوڈ‘ نے القدس کو  یکجا کرنے کی منظوری دینے کے بعد غرب اردن کو بھی اسرائیل میں شامل کرنے کا اعلان کیا تھا۔

ایک سوال کے جواب میں صالح العاروری نے کہا کہ فلسطینی قوم اور حماس ٹرمپ کے اعلان القدس کو کسی صورت میں تسلیم نہیں کریں گے۔

حماس رہنما نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کے بعد غرب اردن اور القدس  میں اسرائیلی ریاست کو صیہونی آباد کاری کے لیے بے لگام چھوڑ دیا گیا۔ امریکا اور اسرائیل دونوں مل کر عالمی قانون کے تحت قضیہ فلسطین کے حل کی تمام کوششیں اور راستے بند کررہے ہیں۔

العاروری نے ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان القدس پر عالمی رد کو مستحسن قرار دیا اور کہا کہ علاقائی اور عالمی سطح پر القدس کے حوالے سے سامنے آنے والا موقف قابل قدر ہے اور اس کے مثبت اثرات سامنے آئیں گے۔

حماس رہنما نے کہا کہ ان کی جماعت قومی مفاہمت اور اسرائیل کے ساتھ مسلح مزاحمت ایک ساتھ جاری رکھے گی۔ انہوں نے کہا کہ غرب اردن میں فلسطینی اتھارٹی کے سیکیورٹی اداروں کی جانب سے فلسطینی مزاحمت کاروں پر پابندیاں عائد کرکے اسرائیل کو اپنے پنجے گاڑنے اور توسیع پسندی کا نیا موقع فراہم کیا گیا۔