You are here: غزہ مسیحی برادری نے ’ضمیر فروش‘ کو المہد چرچ میں داخلے روک دیا
 
 

مسیحی برادری نے ’ضمیر فروش‘ کو المہد چرچ میں داخلے روک دیا

E-mail Print PDF

0Pala9808غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) گذشتہ روز گرجا گھروں کی املاک اسرائیل کو فروخت کرنے میں  ملوث فلسطین کے ایک سرکردہ عیسائی پادر ی کے بیت لحم میں قائم ’المہد گرجا گھر‘ کے دورے کے عیسائی شہریوں نے احتجاج کیا اور پادری کو وہاں سے نکال باہر کردیا گیا۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اتوار کو بیت لحم میں عیسائیوں کے مذہبی مرکز میں کرسمس کے حوالے سے ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں گرجا گھروں کی املاک فروخت کرنے کے ملوث ہونے پرمتنازع پادری تھیوفلوس سوم نے بھی شرکت کرنا تھی۔

مقامی ذرائع کا کہنا ہے کہ جیسے ہی تھیو فلوس المہد چرچ کے قریب پہنچا تو مشتعل ھجوم نے اس کے قافلے پر جوتوں اور انڈوں کی بارش کردی۔ پادری کے خلاف شدید نعرے بازی کی اور اس سے وہاں سے چلے جانے کا مطالبہ کیا گیا۔

خیال رہے کہ تھیوفلوس پر فلسطین میں گرجا گھروں کی املاک اور اراضی اونے پونے صیہونیوں کو فروخت کرنے کے الزامات ہیں جس کی وجہ سے فلسطینی عیسائی برادری بھی اس کے خلاف سخت برہم ہے۔

ادھر دوسری جانب فلسطین میں مذہبی اور سیاسی جماعتوں نے ‘ضمیر فروش‘ عیسائی پادری کے خلاف مسیحی برادری کے احتجاج اور پادری کو المہد چرچ میں داخلے سے روکنے کے اقدام کی تحسین کی ہے۔

اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ مسیحی برادری نے مذہبی مراکز کی املاک فروخت کرنے میں ملوث دھوکے باز پادری کے خلاف احتجاج کرکے قومی اور دینی حمیت کا ثبوت دیا ہے۔