You are here: حماس ’وحدت القدس‘ کا اسرائیلی قانون ناقابل قبول، مزاحمت کریں : حماس رہنما
 
 

’وحدت القدس‘ کا اسرائیلی قانون ناقابل قبول، مزاحمت کریں : حماس رہنما

E-mail Print PDF

0Pala8106غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے پارلیمانی شعبے کے رکن اور مرکزی رہنما ڈاکٹر صلاح الدین بردویل نے کہا ہے کہ اسرائیل کی طرف سے مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی اور مغربی حصے کو یکجا کرنے کا قانون ناقابل قبول ہے۔ ان کی جماعت صیہونی ریاست کے اس اقدام کے خلاف بھی تحریک چلائے گی۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صلاح الدین بردویل نے صیہونی ریاست کے نام نہاد قوانین کے خلاف بیداری اور مزاحمت کی تحریک چلانے پر زور دیا۔

ایک بیان میں صلاح الدین بردویل کا کہنا تھا کہ اسرائیل نام نہاد قوانین کی آڑ میں ہماری سرزمین اور قوم کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ہمارے پاس صیہونی ریاست کے جرائم کا مقابلہ کرنے کے لیے جرات مندانہ مزاحمتی تحریک چلانے کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

حماس رہنما نے کہ ان کی جماعت اور پوری فلسطینی قوم نے وحدت القدس کے صیہونی قانون کو مسترد کردیا ہے۔ القدس کے مغربی اور مشرقی حصے کو یکجا کرنے کا قانون غیر آئینی اور غیرقانونی ہے اور ہم اسے فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کی قانونی جارحیت سمجھتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صیہونی حکومت کی طرف سےالقدس کو یکجا کرنے کی سازشیں ایک ایسے وقت میں جاری ہیں جب دوسری جانب امریکی حکومت نے القدس کو صیہونی ریاست کا دارالحکومت تسلیم کرکے فلسطینی قوم کے خلاف دشمنی کا ثبوت دیا ہے۔