You are here: Home
 
 

فلسطینیوں کے لیے امریکی امداد میں کمی کے ممکنہ نتائج پر سویڈن کا انتباہ

E-mail Print PDF

0Pala9830اسٹاک ہوم (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) سویڈن نے امریکا کو اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی "اونروا" کے لیے مختص کردہ فنڈنگ کم کرنے کے نتائج سے خبردار کیا ہے۔ سویڈن فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکا ہے اور اس کا شمار فلسطینیوں کے لیے عطیات دینے والے بڑے ممالک میں ہوتا ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اقوام متحدہ میں سویڈن کے سفیر اولوف اسکوگ نے بدھ کے روز کہا ہے کہ اس نوعیت کا فیصلہ انتہائی منفی اثرات کا حامل ہو گا اور اس کے نتیجے میں مشرق وسطی عدم استحکام کا شکار ہو جائے گا۔

سویڈش سفیر کے مطابق امریکی انتظامیہ کی جانب سے اونروا کے لیے رواں سال کی امداد کی پہلی قسط 12.5 کروڑ منجمد کرنے سے متعلق رپورٹیں آنے کے بعد انہوں نے اپنی ہم منصب امریکی سفیر نکی ہیلی کے ساتھ اس معاملے پر بات چیت کی ہے۔

نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفتر میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے اسکوگ کا کہنا تھا کہ "اونروا کی فنڈنگ روکے جانے سے 50 لاکھ سے زیادہ افراد کی انسانی ضروریات متاثر ہوں گی اور ساتھ ہی خطّے میں عدم استحکام پیدا ہو گا"۔

سویڈش سفیر کے مطابق یہ معاملہ 25 جنوری کو فلسطینی اسرائیلی تنازعے کے حوالے سے سلامتی کونسل کے مقررہ اجلاس میں زیر بحث آ سکتا ہے۔

فلسطینی اتھارٹی شدّت کے ساتھ بین الاقوامی امدادات پر انحصار کرتی ہے۔ اسرائیلی مبصرین سمیت تجزیہ کار باور کراتے ہیں کہ یہ امدادات خطّے میں استحکام برقرار رکھنے میں مددگار ہیں۔

رواں برس دو جنوری کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی ٹوئیٹس میں کہا تھا کہ "ہم فسلطینیوں کو سالانہ کروڑوں ڈالر دیتے ہیں اور جواب میں ہمیں کسی قسم کا احترام اور تحسین نہیں ملتی۔ یہاں تک کہ یہ لوگ اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے پر مذاکرات بھی نہیں کرنا چاہتے۔

ادھر انسانی حقوق کی تنظیم "ہیومن رائٹس واچ" کے سربراہ کینتیھ روس نے امریکی فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "نفرت انگیز" اور "خوف زدہ کرنے کی تدبیر" قرار دیا۔

امریکی وزارت خارجہ کے ایک سینئر اہل کار نے پیر کے روز واضح کیا تھا کہ "اونروا کی فنڈنگ روک دینے کے حوالے سے فیصلہ ابھی تک زیرِ غور ہے"۔ انہوں نے زور دے کر بتایا کہ واشنگٹن نے ابھی تک اپنی کوئی بھی واجب الادا امدادی قسط میں نہیں روکی ہے۔

سویڈن 2014 میں فلسطینی ریاست کو قبول کرنے والا پہلا یورپی ملک بن گیا تھا۔ وہ اونروا ایجنسی کو مالی رقوم فراہم کرنے والے 10 بڑے عطیہ کنندگان میں سے ہے۔ اس فہرست میں امریکا ، یورپی یونین ، سعودی عرب ، جرمنی اور برطانیہ بھی شامل ہیں۔