You are here: فلسطین صیہونی زندانوں میں قید زخمی فلسطینی خاتون کی درد بھری فریاد!
 
 

صیہونی زندانوں میں قید زخمی فلسطینی خاتون کی درد بھری فریاد!

E-mail Print PDF

0Pala9775مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی فوج کے زیرانتظام ’ہشارون‘ نامی ایک عقوبت خانے میں قید ایک زخمی فلسطینی اسیرہ نے اپنی دکھ بھری داستان پر مشتمل ایک مکتوب انسانی حقوق کے گروپوں کے ذریعے میڈیا تک پہنچایا ہے۔ اس مکتوب میں اسیرہ اسراءجعابیص کا کہنا ہے کہ شدید زخمی ہونے کے باوجود اسرائیلی جیلر اسے کے علاج معالجے میں مجرمانہ غفلت اور لاپرواہی کا مظاہرہ کررہےہیں۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سوشل میڈیا پر پوسٹ ہونے والے اسراء جعابیص کے مکتوب میں اسیرہ نے لکھا ہے کہ جیل میں اس کے ساتھ غیرانسانی سلوک روا رکھا جاتا ہے۔ کئی قبل زخمی حالت میں گرفتاری کے بعد بھی اسے کسی قسم طبی سہولت فراہم نہیں کی گئی۔

اس کا کہنا ہے کہ جیل میں اسے چھوٹے چھوٹے کاموں کے لیے بھی اسے دوسری قیدی خواتین سے مدد لینا پڑتی ہے کیونکہ اس کے ہاتھ اور پاؤں دونوں زخمی ہیں۔

جعابیص کا کہنا ہے کہ صیہونی جیلر اس کے ساتھ دانستہ طور پر توہین آمیز سلوک کرتے ہیں اور ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت دوسری خواتین کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ میرا چہرہ بری طرح جھلس چکا ہے اور میں چلنے پھرنے میں مشقت کے ساتھ چہرہ دھونے میں بھی مشکل اور تکلیف محسوس کرتی ہوں۔

خیال رہے کہ 11 اکتوبر 2015ء کا واقعہ ہے جب اسراء جعابیص نے اپنے گھر سے ضروری سامان ایک ٹیکسی پر ایک ٹی وی سیٹ، گھر میں استعمال ہونے والا ایک گیس سلینڈراور دیگر سامان لادا اور بیت المقدس روانہ ہوگئیں۔ راستے میں بیت المقدس کے قریب پہنچے پر ایک زور دار دھماکہ ہوا۔ یہ دھماکہ گاڑی کے اندر کسی دھماکہ خیز چیزکا نہیں تھا بلکہ وہ ٹیکسی کے اسٹیئرنگ کے ساتھ متصل ایک چھوٹے سلینڈر کا تھا جس کے نتیجے میں گاڑی میں آگ بھڑک اٹھی۔

چونکہ اسراء جعابیص بھی اس آگ کی لپیٹ میں آ کر بری طرح جھلس گئی تھیں، اس کے کپڑے تک جل گئے اور اس کے دونوں ہاتھوں کہ انگلیاں بری طرح جھلس گئی تھیں۔ موقع پر موجود ایک فلسطینی نوجوان نے اس کی مدد کی اور آگ میں جھلسی جعابیص پر اپنی جیکٹ ڈالی۔ کچھ ہی فاصلے پر موجود اسرائیلی پولیس پہلے تو یہ سارا تماشا دیکھتی رہی۔ کافی دیر گذرنے کے بعد آئی بھی تو اسراء جعابیص پر فدائی حملے کا کیس بنا کر اس کے خلاف عدالت میں مقدمہ قائم کر ڈالا۔ اسراء جعابیص جو شدید طور پر جھلسنے کے باعث اسپتال منتقل کردی گئی تھیں اسرائیلی پولیس کی تفتیش کا سامنا کرنے لگیں۔

پہلے پہل تو اسرائیلی پولیس نے تسلیم کیا کہ یہ کوئی حملہ یا کارروائی نہیں بلکہ محض حادثہ تھا مگر بعد میں صیہونی حکام اپنے دعوے سے پھر گئے اور اسراء کے خلاف باطل الزام میں مقدمہ کی کارروائی شروع کردی۔

اسراء جعابیص کا کہنا ہے کہ اسے وہ لمحات اچھی طرح یاد ہیں جب وہ ایک حادثے کے نتیجے میں کار میں ہونے والے دھماکے میں جھلس گئیں تو ان کی مدد کو کوئی نہیں پہنچا وہ مدد کے لیے پکارتیں رہیں مگر اسرائیلی پولیس اس کی مدد کے بجائے اسے زخمی حالت میں گرفتار کرنے کے لیے پہنچی۔ اس پر الزام عائد کیا  اسراء اسرائیلی فوجیوں اور پولیس پرحملہ کرنا چاہتی تھیں۔ صیہونی فوج اور پولیس کے پاس اپنے اس دعوے کو ثابت کرنے کے لیے کوئی ثبوت بھی نہیں تھا۔ اس کے باوجود  وہ عدالت میں اس کے خلاف مقدمہ کی کارروائی شروع کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ اسراء جس کا جسم دھماکے میں 50 فی صد جھلس گیا تھا کو ایک طرف شدت کی جسمانی تکلیف تھی اور دوسری طرف روزانہ کی بنیاد پرصیہونی تفتیش کار اس کی  اسپتال میں پہنچ کر تفتیش کررہے تھے۔

صیہونی پراسیکیوٹر نے اسراء کے فیس بک صفحے کا مطالعہ کیا جس میں اس کی طرف سے اسرائیلی جارحیت کے خلاف کچھ پوسٹس شیئر کی گئی تھیں۔ صیہونی حکام انہی پوسٹس کی بنیاد پر اسراء کے خلاف مقدمہ کی کارروائی آگے بڑھائی۔

دوران علاج اسراء کو صیہونی آباد کار آئے روز ذہنی اور نفسیاتی ٹارچر کا نشانہ بناتے۔ حتیٰ کہ اسپتال کا عمل بھی اس کے ساتھ توہین آمیز سلوک کرتا۔ اسے کہا جاتا ہے وہ ایک دہشت گرد ہے اور اسے کڑی سے کڑی سزا ملنی چاہیے۔

اسراء ابھی اسپتال ہی میں زیرعلاج تھی کہ عدالت نے اس کی عدم موجودگی میں اسے گیارہ سال قید کی سزا سنادی۔ علاج ابھی مکمل نہیں ہوا تھا کہ صیہونی پولیس نے اسے اسپتال سے گرفتار کیا اور بے دردی کے ساتھ ھشارون جیل میں ڈال دیا۔