You are here: فلسطین غربِ اردن میں صیہونی آباد کاروں کے لیے مزید 1100 نئے مکانوں کی منظوری
 
 

غربِ اردن میں صیہونی آباد کاروں کے لیے مزید 1100 نئے مکانوں کی منظوری

E-mail Print PDF

0Pala5896غربِ اردن (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں صیہونی آباد کاروں کے لیے مزید گیارہ سو سے زیادہ نئے مکانوں کی منظوری دے دی ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی آباد کاروں کو بسانے کی مخالف اسرائیل کی غیر سرکاری تنظیم’’ اب امن‘‘ نے جمعرات کے روز اطلاع دی ہے کہ اسرائیلی وزارت دفاع کی ایک کمیٹی نے بدھ کو ان مکانوں کی تعمیر کی منظوری دی ہے۔ان میں سے 352 مکانوں کی تعمیر کی حتمی منظوری دی گئی ہے اور باقی دفتری کارروائی کے مختلف مراحل میں ہیں۔

اب امن کے مطابق کل 1122 مکانوں کی تعمیر کا منصوبہ پیش کیا گیا تھا۔ان میں سے سات پہلے ہی موجود ہیں اور انھیں قانونی بنانے کی منظوری دی گئی ہے۔ یہ مکانات غربِ اردن کے اندرون میں موجود صیہونی بستیوں میں تعمیر کیے جائیں گے ۔مشرق وسطیٰ تنازع کے دو ریاستی حل کی صورت میں اسرائیل کو ان علاقوں کو خالی کرنا پڑے گا۔

اب امن کی ڈائریکٹر مس حجت عفران کا کہنا ہے کہ ’’اسرائیلی حکومت کا عمومی رجحان یہ ہے کہ مغربی کنارے کے تمام علاقوں میں صیہونی بستیاں تعمیر کررہی ہے اور ان علاقوں میں بھی صیہونی آباد کاروں کے لیے مکانات تعمیر کر رہی ہے جو اس کو خالی کرنا پڑیں گے لیکن وہ تنازع کے دو ریاستی حل کو سبوتاژ کرنے کے لیے یہ سب کچھ کررہا ہے‘‘۔

اب امن کے مطابق اسرائیل نے گذشتہ سال 6742 مکانوں کی منظوری دی تھی اور یہ 2013ء میں صیہونی آباد کاروں کے لیے سب سے زیادہ تعداد تھی۔

واضح رہے کہ سابق امریکی صدر براک اوباما اپنے دورِ حکومت میں مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی آباد کاروں کے لیے تعمیرات پر اسرائیل کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے رہے تھے لیکن ان کے جانشین صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس ضمن میں اسرائیل کو کوئی زیادہ دباؤ کا سامنا نہیں ہے۔اس لیے اس نے کھلے بندوں صیہونی آباد کاری کے منصوبوں پر عمل درآمد کی رفتار تیز کردی ہے۔

تاہم یورپی یونین نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی علاقوں میں صیہونی آباد کاروں کے لیے نئے مکانوں کی تعمیر کے منصوبے بند کردے۔ واضح رہے کہ اسرائیل نے 1967ء کی مشرق وسطیٰ جنگ میں غربِ اردن ، مشرقی یروشیلم اور گولان کی چوٹیوں سمیت جن علاقوں پر قبضہ کیا تھا،وہ اسرائیل کی بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرحدوں کا حصہ نہیں ہیں۔