You are here: حماس فلسطینیوں کا مصالحتی سمجھوتہ خطرے میں ہے: حماس رہنما
 
 

فلسطینیوں کا مصالحتی سمجھوتہ خطرے میں ہے: حماس رہنما

E-mail Print PDF

0Pala6062دوحہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے سیاسی شعبے کے سینیر رکن ڈاکٹر موسیٰ ابو مرزوق نے خبردار کیا ہے کہ مصر کی ثالثی کے تحت فلسطینی دھڑوں میں طے پایا مفاہمتی پروگرام خطرے میں ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر مفاہمتی کوششیں ناکام ہوئیں تو ان کی ذمہ داری حماس پر عاید نہیں ہوگی۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اخبار ’القدس‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں حماس رہنما نے کہا کہ فلسطینی مصالحت کی گاڑی کو درست سمت میں آگے بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے۔ تحریک فتح کی جانب  سے مصالحت کے حوالے سے کیے گئے وعدے ایفاء نہیں کیے گئے۔

ایک سوال کے جواب میں ابو مرزوق نے کہا کہ حماس نے مصالحت کو آگے بڑھانے کے لیے اپنے حصے کا کام کردیا ہے۔ اب فتح کو مصالحت کو شک شبے سے نکال کر طے شدہ نکات پر عمل اقدامات کرنا ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ حماس فلسطینیوں میں اختلافات پیدا کرنے والے فریق میں شامل نہیں۔ اگر مصالحت ناکام ہوتی ہے تو اس کی تمام تر ذمہ داری فتح اور صدر محمودعباس پرعائد ہوگی۔

ایک دوسرے سوال کے جواب میں حماس رہنما نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی کے اقدامات، صدر محمود عباس اور فتح کی قیادت کے بیانات مصالحت کے حوالے سے مایوس کن ہیں۔ مصالحت کے حوالے سے مایوسی اور بد اعتمادی کی فضاء قومی مفاہمت کی مساعی کو تباہ کرسکتی ہے۔

ڈاکٹر ابو مرزوق نے کہا کہ ان کی جماعت نے فلسطینی تحریک مزاحمت کو عملی شکل دینےکے لیے اپنے ذمہ داریاں پوری کی ہیں۔ ہم نے غزہ کی پٹی کا انتظامی کنٹرول فلسطینی حکومت کے حوالےکیا ہے مگر موجودہ حکومت ناکام ثابت ہوئی ہے۔ ہم نے اس سلسلے میں فروری میں نئی قومی حکومت کی تشکیل کے حوالے سے صلاح مشورہ کرنے سے اتفاق کیا ہے۔