You are here: Home
 
 

مسجد اقصیٰ کے قریب پُل اسرائیل کی مجرمانہ اشتعال انگیزی ہے: جامعہ الازھر

E-mail Print PDF

0Pala9845قاہرہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) مصر کی سب سے بڑی دینی درس گاہ جامعہ الازھرنے مسجد اقصیٰ کے جنوب میں صیہونی آباد کاروں کی قبلہ اوّل تک رسائی کے لیے پل کے منصوبے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے اسرائیل کی مجرمانہ اشتعال انگیزی قرار دیا ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق جامعہ الازھر کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیاہے کہ الازھر مسجد اقصیٰ کے جنوب میں صیہونی آباد کاروں کی سہولت کے لیے پُل کی تعمیر کے منصوبے کو یکسر مسترد کرتی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ صیہونی ریاست ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت بیت المقدس کو یہودیانے ، مسجد اقصیٰ کا تقدس پامال کرنے اور بیت المقدس کے تاریخی معالم وآثار کو تباہ کرنے کے منصوبے بنا رہا ہے۔

جامعہ الازھر نے اپنے بیان میں صیہونی آباد کاروں کے مسجد اقصیٰ پر مسلسل دھاوون کی بھی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا ہے کہ تاریخی اور علمی دستاویزات میں القدس میں صیہونیوں کا کوئی حق نہیں اور نہ ہی ان کا کوئی وجود ملتا ہے۔

بیان میں ایک بار القدس کو فلسطینی ریاست کا دارالحکومت قرار دینے کی حمایت کرتے ہوئے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان القدس کو باطل اور ظالمانہ قرار دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ امریکی اقدام فلسطین میں صیہونی آباد کاری اور اسرائیل کی توسیع پسندی کی حوصلہ افزائی کا موجب بن رہا ہے۔ امریکی صدر نے القدس کے بارے میں فیصلہ کرکے تاریخی فیصلوں، عالمی قراردادون اور اخلاقی قدروں کو پامال کیا ہے۔

جامعہ الازھر کے سربراہ احمد الطیب نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ صیہونیوں کا دعویٰ ہے کہ مسلمانوں القدس پر کوئی حق نہیں اور قرآن پاک میں اس کا کوئی تذکرہ نہیں۔ مگر یہودیوں کا یہ دعویٰ تاریخی اور علمی دستاویزات میں جھوٹ کا پلندہ ہے۔