You are here: حماس عرب ارکان کنیسٹ کو پھنسانے کے لیے نیا اسرائیلی قانونی شکنجہ تیار
 
 

عرب ارکان کنیسٹ کو پھنسانے کے لیے نیا اسرائیلی قانونی شکنجہ تیار

E-mail Print PDF

0Pala6660مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ اسرائیلی پارلیمنٹ میں ایک نیا مسودہ قانون لانے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس قانون کا خاص طورپر ہدف اسرائیلی پارلیمنٹ کے عرب کمیونٹی کے نمائندہ ارکان ہوں گے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق حکومت نے اسرائیل کے بائیکاٹ میں سرگرم تنظیموں پر مزید پابندیاں لگانے کے لیے ایک نیا بل تیار کیا ہے۔ اس بل پرکل بدھ کو رائےبحث کا امکان ہے۔ مجوزہ آئینی بل میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی کنیسٹ کا کوئی بھی رکن اسرائیلی ریاست کا بائیکاٹ کرنے والی تنظیموں کے خرچے پران کی کسی تقریب یا پروگرام میں شرکت نہیں کرسکے گا۔

رپورٹ کے مطابق جن تنظیموں کو اسرائیل پہلے ہی بلیک لسٹ کرچکا ہے، ان کی دعوت ان کی کسی تقریب میں شرکت پرپابندی عائد کی جائے گی۔ ان تنظیموں کے ارکان کو مقبوضہ فلسطینی اراضی میں داخل ہونے سے روک دیا گیا ہے۔ ان میں شمالی اور جنوبی امریکا، یوپ اور افریقی ملکوں کی تنظیمیں بھی شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ’امریکی مسلم برائے فلسطین‘ نامی ایک گروپ کو اسرائیل کے بائیکاٹ کی پاداش میں فلسطینی علاقوں میں سرگرمیوں سے روک دیا گیا ہے۔ اس تنظیم نے کنیسٹ میں شامل عرب اتحاد کے رکن احمد الطیبی کو اپنے ایک  پروگرام میں شرکت کی دعوت دی تھی۔

اسرائیل کی حکمراں جماعت ’لیکوڈ‘ کے رکن پارلیمنٹ یوآف کیش کی طرف سے تیار کردہ اس مسودہ قانون کا مقصد عرب ارکان کنیسٹ کو بائیکاٹ کرنے والے گروپوں کے ساتھ تعاون سے روکنا ہے۔

دوسری جانب عرب رکن کنیسٹ احمد الطیبی نے یوآف کیش کے اقدام کو غیر شفاف اور ظالمانہ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ کے ذریعے نام نہاد قانونی اشکنجوں کا مقصد ارکان کنیسٹ کی آزادی عمل سلب کرنا ہے۔