You are here: Home
 
 

اسرائیل بحرانی صورت حال کا سامنا کرنے کی توانائی نہیں رکھتا: اسرائیلی وزیر دفاع

E-mail Print PDF

0Pala6151مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) غاصب صیہونی حکومت کے وزیر جنگ نے اعتراف کیا ہے کہ نیتن یاہو کی حکومت، جنگ کے حالات اور بحرانی صورت حال کا سامنا کرنے کی توانائی نہیں رکھتی۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق صیہونی حکومت کے وزیر جنگ لیبرمین نے اسرائیل کے فضائی اور میزائل حملوں کے مقابلے میں شامی فوج کے غیرمعمولی ردعمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ صورت حال میں اسرائیل جنگ کے حالات اور بحرانی صورت حال سے نمٹنے کی توانائی نہیں رکھتا۔

لیبرمین نے کہا کہ جوابی اقدامات کے مقابلے میں اسرائیل میں اندرونی محاذ کو مضبوط اور اسرائیلی شہریوں کی حمایت کے حصول کے لئے ایک ارب چار سو ملین ڈالر کی ضرورت ہے۔

صیہونی وزیر جنگ نے مقبوضہ فلسطین کے شمالی علاقوں پر شامی فوج کے جاری جوابی میزائل حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ رواں سال کے اختتام تک اسرائیل میں پناہ گاہیں بنانے اور اندرونی صورت حال کو بہتر بنانے کے لئے کروڑوں ڈالر کے اخراجات کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

لیبرمین کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج نے جمعرات کو اعلان کیا ہے کہ شام کے علاقوں سے مقبوضہ جولان کے علاقوں پر درجنوں میزائل فائر کئے گئے ہیں۔

واضح رہے کہ جمعرات کی صبح شام کے دارالحکومت دمشق کے مختلف علاقوں پر اسرائیل نے کئی میزائل فائر کئے تھے جن میں سے شامی فوج کے اینٹی میزائل سسٹم نے کئی میزائلوں کو تباہ کر دیا تھا اور پھر شامی فوج نے بھی جوابی اقدام عمل میں لاتے ہوئے‏ مقبوضہ جولان کی پہاڑیوں میں صیہونی حکومت کے فوجی ٹھکانوں پر اڑسٹھ میزائل داغے تھے۔

شامی فوج کی جانب سے اس دندان شکن جواب سے صیہونی حکام پر اتنا ہی خوف و ہراس طاری ہوا کہ انھوں نے شامی فوج کی جانب سے جن ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ان کی تفصیلات تک بتانے سے گریز کیا۔

شامی فوج نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ غاصب صیہونی حکومت کی جارحیت کے جواب میں میزائلی حملوں کا اقدام شام کی عزت و وقار اور شامی فوج اور قوم کی بیداری نیز جارحیت کے مقابلے میں ان کی مکمل آمادگی کا مظہر ہے۔

شامی فوج کے بیان مین تاکید کے ساتھ اعلان کیا گیا ہے کہ شام کی مسلح افواج دشمن کی ہر طرح کی جارحیت کا منھ توڑ جواب دینے کے لئے مکمل آمادہ ہیں۔