You are here: Home
 
 

‎غزہ واپسی کی امید تازہ کا ’محصور قلعہ‘!

E-mail Print PDF

0Pala10906غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) کل سوموار 14 مئی 2018ء کو فلسطین پر صیہونی ریاست کے قیام کے 70 برس پورے ہونے پر اہل فلسطین کو ایک بار پھرعالمی دہشت گردوں نے خون میں نہلا دیا، درجنوں فلسطینی شہید اور ہزاروں کی تعداد میں زخمی ہوچکے ہیں۔

منظم ریاستی تشدد اور دہشت گردی کے باوجود نہتے فلسطینیوں نے غزہ کی مشرقی سرحد پر تاریخ ساز ملین مارچ  کرکے پوری دنیا کو یہ پیغام دے دیا ہے کہ فلسطینی قوم نے امریکیوں اور صیہونیوں کے نام نہاد امن منصوبے ’صدی کی ڈیل‘ کو زمین میں دفن کردیا ہے۔ فلسطینیوں کا سرحد کی طرف پرامن مارچ اقوام متحدہ کی قرارداد 194 کے عین مطابق ہے جس میں فلسطینیوں کو 70 برس قبل ان کے آبائی علاقوں میں واپس جانے کا پورا پورا حق حاصل ہے۔

غزہ کی پٹی میں 30 مارچ 2018ء کو ’یوم الارض‘ کے موقع پر پرامن انقلاب کا ایک نیا آغاز کیا گیا۔ فلسطینی اس انقلاب کو ’عظیم الشان واپسی مارچ‘ کا نام دیتے ہیں۔ اس دوران اسرائیلی فوج کی منظم ریاستی دہشت گردی کے نتیجے میں 50 فلسطینیوں کو شہید کیا جا چکا ہے۔

غزہ تاریخ کے آئینے میں!

فلسطینی تجزیہ نگار غسان الشامی نے غزہ کی پٹی کی تاریخ پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ غزہ کا شمار دنیا کے قدیم ترین شہروں میں ہوتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ غزہ انسانی تمدن میں چوتھا بڑا شہر ہے جسے شہر کے طورپر آباد کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ غزہ قدیم مصری نصوص میں بھی ایک شہر کے طور پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ برونز کے وسطی دور میں بھی اسے ایک شہر کا درجہ حاصل تھا۔

یہ شہر مصر اور شام کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ تھا۔ اہم تجارتی گذرگہ اور تاریخی مقام تھا۔ غزہ میں ہونے والی کھدائیوں اور کھنڈرات سے پتا چلتا ہے کہ یہ شہر کئی اقوام کا مسکن رہ چکا ہے۔

تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے الشامی نے کہا کہ اسکندر اعظم نے غزہ کی پٹی پر اپنی سپاہ کے ساتھ چڑھائی کی تو یہاں کے لوگوں نے اس کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔ اسے کے سامنے ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیا۔ جب مقامی آبادی کو زیر کرنے میں ناکام رہا تو اس نے شہر میں جگہ جگہ آگ لگا دی، فصلیں اور باغات نذرآتش کرڈالے۔

جغرافیہ

فلسطینی تجزیہ نگار کا کہنا ہے کہ غزہ کا سمندر اور زمین دونوں قدرتی وسائل کا خزانہ ہیں۔ اس کے قدرتی خزانوں کا پتا 3500 سال قبل سے چلتا ہے۔ جغرافیائی اعتبار سے یہ علاقہ شمالی افریقا اور مشرقی عرب دنیا میں رابطے کا ایک ذریعے تھا۔ فراعنہ کے دور مصر اور بلاد شام کے درمیان بھی یہ علاقہ پل کا درجہ رکھتا تھا۔


معروف مصنف جیرالڈ بوٹ کا کہنا ہے کہ غزہ بہت سے علاقوں کے لیے چوک کا درجہ رکھتا تھا۔ یہاں کئی بڑے بڑے تاریخی معرکے بھی لڑے گئے۔

غزہ کو پانچ گورنریوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ انہیں خان یونس، رفح، وسطی، اور شمالی گورنریاں کہا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ الشجاعیہ، الزیتون، الرمال الشاطی اس کی اہم کالونیاں ہیں۔ اس میں بسنے والے فلسطینی باشندوں کی تعداد بیس لاکھ کے قریب ہے۔

مصائب ومشکلات

غزہ کی پٹی کے عوام 2006ء سے بدترین اسرائیلی ناکہ بندی کا شکار ہیں۔ اسرائیلی ریاست نے فلسطین میں سنہ دو ہزار چھ میں ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) کی غیرمعمولی کامیابی پر غزہ کے عوام پر اجتماعی سزا مسلط کردی تھی۔

اسرائیلی پابندیوں کے باعث غزہ کے 80 فی صد عوام غرب کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کرتے ہیں، جب کہ بے روزگاری کی شرح 46.6 فی صد ہے۔ مجموعی طورپر غزہ میں دو لاکھ 43 ہزار افراد بے روزگار ہیں۔

عالمی بنک کی رپورٹ کے مطابق غزہ کی پٹی میں بے روزگار نوجوانوں میں اکثریت 20 سے 29 سال کی عمر کے افرادکی ہے۔ ان میں جامعات کے گریجویٹ اور نئے تعلیم یافتہ نوجوان شامل ہیں۔

چیلنجز

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کے عوام کو کئی طرح کے چیلنجز ایک ساتھ درپیش ہیں۔ فلسطینی تجزیہ نگار ایمن الرفاتی کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی میں جاری پرامن واپسی ملین مارچ اسرائیل کے ساتھ محاذ آرائی کا حقیقی چیلنج ہے۔ یہ چیلنج جہاں فلسطینیوں کے لیے ہے وہیں صیہونی ریاست اور قابض فوج کے لیے بھی ہے۔

ایمن الرفاتی کا کہنا ہے کہ غزہ کی پٹی پہلی تحریک انتفاضہ کے بعد پہلی بار ایک مشکل محاذ کا سامنا کررہی ہے۔ غزہ کے عوام نے پہلی تحریک انتفاضہ کے دوران بھی صیہونی فوج کو ناکوں چنے چبوائے تھے۔ پہلی انتفاضہ کے دوران فلسطینیوں کی بڑی تعداد نے فدائی حملوں کا راستہ اختیار کیا۔ یہی وجہ ہے کہ اسحاق رابین نے بھی فلسطینیوں کی مزاحمتی قوت کو تسلیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ غزہ کے عوام کو سمندر میں دھکیل دیں۔

غزہ کی پٹی صیہونی دشمن کے ساتھ ساز باز کے منصوبے میں گھونپا گیا خنجر ہے۔ یہاں کے فدائی حملہ آوروں نے فلسطینی قوم کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی علاقائی اور عالمی اوباشوں کی سازشوں کو بری طرح ناکام بنایا۔

سنہ2006ء میں حماس کی پارلیمانی انتخابات میں کامیابی نے صیہونی ریاست کو چکرا کر رکھ دیا۔ حماس کی پارلیمانی الیکشن میں کامیابی صیہونی دشمن کے لیے ایک سنگین چیلنج بن کر سامنے آئی اور اس کامیابی نے شرم الشیخ میں ہونے والی سازشوں اور قضیہ فلسطین کی سازشوں کو بری طرح ناکام بنا دیا۔

غزہ کی پٹی میں مجاھدین نےاسرائیلی فوجی گیلاد شالیت کو جنگی قیدی بنایا۔ کامیابی کے ساتھ اسے قید رکھا اور اس کی رہائی کے بدلے میں ایک ہزار پچاس فلسطینی قیدیوں کو آزاد کرایا گیا۔