You are here: Home
 
 

صابر ابو مریم کا سینیٹ قائمہ کمیٹی کے تحت منعقدہ فلسطین کانفرنس سے خطاب

E-mail Print PDF

0Pala10908اسلام آباد ( فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) سینیٹ کی قائمہ کمیٹی بائے خارجہ امور کے چیئر مین سینیٹر مشاہد حسین سید کی جانب سے فلسطینیوں کے 70ویں یوم نکبہ اور حالیہ دنوں فلسطین میں امریکی سفارت خانہ کی منتقلی سمیت فلسطینیوں کی اسرائیلی وحشیانہ دہشت گردی کی مذمت میں کانفرنس کا انعقاد پاریمنٹری انسٹیٹیوٹ آڈیٹوریم میں کیا گیا جس میں مہمان خصوصی

آزادکشمیر کے وزیر اعظم راجہ فاروق حیدر تھے جبکہ فلسطینی سفیر کو بھی مدعو کیا گیا تھا۔کانفرنس میں متعدد ممالک کے سفیروں نے بھی شرکت کی جبکہ فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل صابر ابو مریم ، سینیٹر جنرل (ر) عبد القیوم ،سینیٹر جنرل (ر) اسد درانی، سینیٹر ستار ہ ایاز، سینیٹر میاں عتیق ، سید ناصر گیلانی (کشمیری حریت رہنما)، آصف کمال، شیخ جمال، حمید لون ، اعجاز حسین سمیت دیگر نے خطاب کیا اور مسئلہ فلسطین و کشمیر کے حل کے لئے اقوام متحدہ کی قرار دادوں پر عمل درآمد پر زور دیتے ہوئے مشترکہ طور پر قرار داد پاس کی جس میں حالیہ دنوں فلسطینی عوام پر جاری اسرائیلی وحشیانہ حملوں کی مذمت کی گئی تھی جبکہ امریکی سفارت خانہ کی القدس شہر (یروشلم) منتقلی کی مخالفت اور مذمت کرتے ہوئے امریکی اقدام کو بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا ۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق سینیٹر مشاہد حسین سید نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کی جانب سے کانفرنس کے انعقاد کے اہداف و مقاصد بیان کرتے ہوئے کشمیر و فلسطین کے مسائل کے حل پر زور دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی جانب سے منظور شدہ قرار دادوں کو نظر انداز کئے جانے کو شدیدتنقید کا نشانہ بنایااور فلسطین و کشمیر سے متعلق دفتر خاجہ کے موقف کو بیان کیا اور اعلان کیا کہ پاکستان فلسطین اور اس کے عوام کے ساتھ ہے اور کسی صورت بھی فلسطینیوں کے حقوق کے دفاع سے دستبردار نہیں ہوں گے۔


سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خارجہ امور کے زیر اہتمام منعقدہ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے مرکزی سیکرٹری جنرل صابر ابو مریم کاکہنا تھا کہ آج جبکہ سینیٹ آف پاکستان کی خارجہ امور کی کمیٹی کی جانب سے فلسطین کانفرنس منعقد کی جا رہی ہے یہ تارخی ایام ہیں کہ جب فلسطین کے عوام یوم نکبہ کی تباہی و بربادی کو یاد کر کے نہ صرف غمزدہ ہیں بلکہ اپنے حق واپسی کے لئے پر امن طور پر بھرپور جدو جہد کر رہے ہیں، آج مسئلہ فلسطین کو ستر سال مکمل ہو چکے ہیں لیکن عالمی برادری اور عرب ممالک اس مسئلہ کو حل کرنے میں ناکام رہے ہیں جو کہ عالمی برادر ی اور عرب دنیا کے منہ پر ایک سیاہ دھبہ کی مانند ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ نے فلسطینیوں اور اسرائیل کے مابین مذاکرات کا ڈرامہ رچا کر مسئلہ فلسطین کو ختم کرنے اور اسرائیل کو مکمل تحفظ دینے کی گھناؤنی سازشیں جاری رکھی ہوءئی ہیں اور یہ سب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے پیش کی گئی صدی کی ڈیل کا حصہ ہے۔انہوں نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے صدی کی ڈیل ک اپیش کیا جانا ایسا ہی ہے جیسے سنہ1917ء میں بالفور اعلامیہ پیش کر کے فلسطین کے عوام کے حقوق غصب کئے گئے تھے اور غاصب صیہونی ریاست اسرائیل ک وجود عمل میں لایا گیا تھا۔

فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل صابر ابو مریم کاکہنا تھا کہ امریکہ نے کئی ایک مسلمان اور عرب ممالک کو غلامی کا طوق پہنادیا ہے اور بتا دیا ہے کہ امریکہ جو کہتا ہے و ہ کرنا ہو گا ورنہ سنگین نتائج کی دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔افسوس کی بات ہے عرب دنیا کے حکمران امریکی ترجمانی کر رہے ہیں اور فلسطینی عوام کے حقوق کا دفاع کرنے کی بجائے امریکی زبان بول کر فلسطینیوں کے زخموں پر نمک پاشی کر رہے ہیں۔

صابر ابو مریم کاکہنا تھا کہ جو ممالک اسرائیل یاامریکہ کو اپنا دوست سمجھ کر فلسطین اور کشمیر جیسے اہم مسائل سے روگردانی کر رہے ہیں انہیں بہت جلد امریکی دھوکہ بازی اور خیانت کا ری کا سامنا کرنے پڑے گا۔ان کاکہنا تھا کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات استوار کرنا اور اسرائیلی حملوں کی حمایت کرنا عرب حکمرانوں کے لئے معمول کا کام بن چکا ہے۔ان کاکہنا تھا کہ غزہ کی حالت انتہائی ابتر ہو چکی ہے لیکن عالمی برادری او ر مسلم دنیا کی جانب سے مسلسل بے حسی اور مجرمانہ خاموشی کا سلسلہ جاری ہے ۔

فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے رہنما صابر ابو مریم کاکہنا تھا کہ فلسطینی عوام اور کشمیری عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم میں یکسانیت پائی جاتی ہے جس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ ایک طرف اسرائیل کی پشت پناہی کر رہا ہے تو دوسری جانب ہندوستان کی پشت پناہی بھی کی جا رہی ہے۔

صابر ابو مریم کاکہنا تھا کہ دنیا بھر کے مسلمان اور بالخصوص فلسطین کے عوا م پاکستان کی طرف دیکھ رہے ہیں لہذاآج ہمیں اس کانفرنس میں ایک مضبوط اور مستحکم موقف کو پیش کرنا ہو گا تا کہ پاکستان بابائے قوم قائد اعظم محمد علی جناح کے بنائے گئے خارجہ پالیسی کے اصولوں پر عمل درآمد کیا جائے۔

اس موقع پر انہوں نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کے چیئر مین سینیٹر مشاہد حسین سید کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے خراج تحسین پیش کیا اور کانفرنس کے اعلامیہ اور قرار داد کی مکمل حمایت کرتے ہوئے فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کی جانب سے مسئلہ فلسطین و کشمیر کو ہر فورم پر اجاگر کرنے کی یقین دہانی کروائی۔اس موقع پر کانفرنس میں خارجہ امور کے ماہرین سمیت ، ریسرچ اسکالرز اور پروفیسر خواتین حضرات سمیت دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔