You are here: غزہ صیہونی دہشت گردی نے غزہ میں شیر خوار بچی کی جان لے لی
 
 

صیہونی دہشت گردی نے غزہ میں شیر خوار بچی کی جان لے لی

E-mail Print PDF

0Pala10917غزہ ( فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کی مشرقی سرحد پر حق واپسی کے حصول کے لیے احتجاجی مظاہرے کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کے طاقت کے اندھا دھند استعمال سے ہرعمر کے شہری شہید ہوئے ہیں ان میں کم سن بچے بھی شامل ہیں۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق دو روز قبل غزہ کی سرحد پر مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج کے وحشیانہ تشدد سے شہید ہونے والوں میں ایک آٹھ ماہ کی شیر خوار لیلیٰ الغندور بھی شامل ہیں۔

لیلیٰ کی ماں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے نہتے مظاہرین کے سروں پر زہریلی آنسوگیس کی بارش برسا دی جس کے نتیجے میں شہری دم گھٹنے سے متاثر ہوئے۔ متاثرین میں اس کی بچی بھی شامل تھی جو بعدا ازاں منگل کی صبح اسپتال میں دم توڑ گئی۔

غزہ وزارت صحت نے منگل کو بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج کی آنسوگیس کی شیلنگ سے متاثر ہونے والی ایک بچی بھی دم توڑ گئی جس کے بعد غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ساٹھ تک جا پہنچی ہے۔

شہید ہونے والی ننھی لیلیٰ کی ماں مریم الغندور نے کہا کہ لیلیٰ ان کی اکلوتی بیٹی تھیں۔ آنکھوں سے جاری آنسو پونچھتے ہوئے انہوں نے خبر رساں ادارے ’اناطولیہ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی دشمن نے ان سے ان کی زندگی کی خوشی چھین لی۔

ایک سوال کے جواب میں مریم نے کہا کہ وہ احتجاجی مظاہروں میں شریک نہیں تھیں۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے مظاہرین کے ساتھ ساتھ شہریوں کے گھروں پر بھی آنسوگیس کی شیلنگ کی۔ ان کی بچی گھر پر شیلنگ کے نتیجے میں متاثر ہوئی اور بالآخر دم توڑ گئی۔ مریم کا ایک بھائی جس کی عمر تیرہ سال اور دادی بھی زخمی ہوئی ہیں۔ زخمی لڑکے عمار کی عمر 13 سال بتائی جاتی ہے۔

شہید ہونے والی بچی کی دادی ھیام عمر نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے مظاہرین اور شہریوں کے گھروں پر خوفناک اور انتہائی مہلک آنسوگیس کی شیلنگ کی۔