You are here: غزہ فلسطینی نرس اسرائیلی سنائپرز کی فائرنگ سے شہید، ماں صدمے سے نڈھال
 
 

فلسطینی نرس اسرائیلی سنائپرز کی فائرنگ سے شہید، ماں صدمے سے نڈھال

E-mail Print PDF

0Pala11061غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز غزہ کی پٹی میں زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے میں پیش پیش رہنے والی ایک جواں سال فلسطینی نرس کو گولیاں مار کر شہید کر دیا۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق 22 سالہ رازان نجار کو جمعہ کی شام مشرقی خان یونس میں اس وقت تاک کر گولیاں ماری گئیں جب وہ گریٹ ریٹرن مارچ کے زیر اہتمام مظاہرے کے دوران زخمی ہونے والے فلسطینیوں کی مرہم پٹی میں مصروف تھیں۔

دوسری جانب شہید فلسطینی دوشیزہ کے اہل خانہ اس واقعے پر صدمے سے نڈھال ہیں۔

فلسطینی وزارت صحت نے ایک بیان میں بتایا کہ اسرائیلی فوج نے مشرقی غزہ میں حق واپسی کے لیے نکالے جانے والے مظاہروں پر فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ کی جس کے نتیجے میں ایک لڑکی شہید اور 100 سے زائد مظاہرین زخمی ہوئے ہیں۔

وزارت صحت کے ترجمان ڈاکٹر اشرف القدرہ نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 22 سالہ نرس رزان اشرف النجار اس وقت شہید ہوئیں جب جنوبی غزہ کے علاقے خان یونس میں زخمی مظاہرین کو طبی امداد فراہم کر رہی تھیں۔

ادھر سوشل میڈیا پر شہید رزان کی محاذ جنگ پر زخمیوں کو طبی امداد فراہم کرنے کی سرگرمیوں کی تصاویر وائرل ہوئیں جنہیں بہت زیادہ شیئر کیا جا رہا ہے۔ ان تصاویر میں شہیدہ کی ماں کو صدمے سے نڈھال دیکھا جا سکتا ہے جو اپنی بیٹی کے خون آلود کپڑوں کو سینے لگائے صیہونیوں کا ماتم کر رہی ہے۔ ماں کی گریہ زاری کے رقت آمیز مناظر کو سوشل میڈیا پر لاکھوں افراد نے شیئر کیا ہے۔

اسرائیلی فوج کی جانب سے جمعہ کے روز پانچ طبی رضاکاروں کو فائرنگ کرکے زخمی کیا۔ ان میں رزان النجار بھی شامل تھیں جو بعد ازاں زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئیں۔

اشرف القدرہ نے بتایا کہ جمعہ کے روز مشرقی غزہ کی پٹی میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ سے 100 سے زائد شہری زخمی ہوئے۔ 40 فلسطینی براہ راست گولیاں لگنے اور باقی آنسوگیس کی شیلنگ سے زخمی ہوئے ہیں۔

تیس مارچ 2018ء سے غزہ میں جاری تحریک حق واپسی کے دوران اسرائیلی فوج کی ریاستی دہشت گردی میں اب تک 119 فلسطینی شہید کئے جا چکے ہیں۔