You are here: یوم القدس دنیا کے مختلف ملکوں میں عالمی یوم القدس کے مظاہرے جاری
 
 

دنیا کے مختلف ملکوں میں عالمی یوم القدس کے مظاہرے جاری

E-mail Print PDF

0Pala11201یورپ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) عالمی یوم القدس اور حریت پسندی کی حمایت میں مختلف ملکوں میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ یورپ کے بعض ملکوں میں عالمی یوم القدس ہفتے اور اتوار کے روز منایا جاتا ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق یورپ کے مسلمانوں اور حریت پسند شہریوں نے یوم القدس کی ریلیوں میں شرکت کر کے مظلوم فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کے خلاف آواز بلند کی اور ساری دنیا پر واضح کر دیا کہ مسلمان بیت المقدس اور فلسطین کو کبھی فراموش نہیں کریں گے۔

جرمنی کے عوام نے بھی دارالحکومت برلن میں فلسطینیوں کی حمایت میں ایک بڑا جلوس نکالا جس پر صیہونیوں سے وابستہ ذرائع ابلاغ نے منفی ردعمل ظاہر کیا ہے کیونکہ صیہونی لابی جرمن حکام پر دباؤ ڈال کر اس مظاہرے کو روکنے کی کوشش کر رہی تھی۔

ہالینڈ میں بھی سیکڑوں لوگوں نے ہیگ سٹی میں واقع پارلیمنٹ کی عمارت کے سامنے اور ایمسٹرڈم کے مرکزی اسکوائر پر اجتماع کیا اور امریکہ و اسرائیل کے خلاف نعرے لگائے۔

مظاہروں کے اختتام پر جاری ہونے والے بیان میں اسرائیل کے انسانیت سوز اقدامات کی مذمت کرتے ہوئے غزہ کا محاصرہ فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔

ادھر اٹلی کے دارالحکومت روم میں ایک سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں مسلم اور عیسائی دانشوروں نے شرکت کی۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مختلف مقررین نے عالمی برادری سے مسئلہ فلسطین کو منصفانہ بنیادوں پر حل کرانے کا مطالبہ کیا۔

مقررین نے فلسطین کی حمایت کے حوالے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے بانی حضرت امام خمینی رح کے ٹھوس اور اصولی موقف کی بھی قدردانی کی۔

اوسلو میں بھی عالمی یوم القدس کے موقع پر مظاہرہ کیا گیا جس میں شریک لوگ، فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کے اعلان کے ساتھ سرزمین فلسطین اور بیت المقدس کی آزادی کے حق میں نعرے لگا رہے تھے۔

لندن میں عالمی یوم القدس کے مظاہرے بی بی سی کی عمارت کے سامنے سے شروع ہوئے اور پروگرام کے مطابق مظاہرین مختلف سڑکوں پر مارچ کرتے ہوئے امریکی سفارت خانے کے سامنے جمع ہونا تھے۔ اس اقدام کا مقصد اسرائیل کے مجرمانہ اقدامات کی حمایت کے حوالے سے امریکہ ، برطانیہ اور بی بی سی کے کردار کو بے نقاب کرنا ہے۔

مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے مختلف مقررین نے حکومت برطانیہ سے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کو اسلحے کی ترسیل کا سلسلہ فوری طور پر بند کر دے۔ مظاہرین نے سعودی عرب کی جانب سے اسرائیل کے مجرمانہ اقدامات کی حمایت کی بھی شدید مذمت کی۔