You are here: Home
 
 

فلسطینی اراضی پر غاصبانے قبضے کے لیے نیا اسرائیلی قانون

E-mail Print PDF

0Pala5887مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی حکومت میں شامل شدت پسند مذہبی سیاسی جماعتوں نے کنیسٹ میں ایک نئے مسودہ قانون پر بحث کا اعلان کیا ہے۔ اس مسودہ قانون میں غرب اردن میں ’صیہونی آباد کاری فاؤنڈیشن‘ نامی ادارے کے زیرتسلط اراضی کو صیہونی کالونیوں کے لیے استعمال میں لانے کی سفارش کی گئی ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عبرانی اخبار’ہارٹز‘ کے مطابق ’صیہونی آباد کاری بریگیڈ فاؤنڈیشن‘ نامی ادارے کو غرب اردن کے دیہی علاقوں میں اراضی مختص کرنے اور اسے صیہونی آباد کاری کے لیے استعمال کرنے کے اختیارات دیے گئے ہیں۔

مسودہ قانون میں کہا گیا ہے کہ غرب اردن کی غیر آباد اراضی کو اپنی تحویل میں لینے اور اسے صیہونی آباد کاری کے مقاصد کے لیے استعمال میں لانے کی سفارش کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ صیہونی آباد کاری فاؤنڈیشن نامی ادارہ عالمی صیہونی تحریک کی ایک یونٹ کے طورپر فلسطین میں صیہونی آباد کاری کے مقاصد کے لیے کام کرتا ہے۔ یہ تنظیم غرب اردن کے دیہی علاقوں، النقب، الجلیل اور دیگر شہروں میں فلسطینی زمینوں کو قبضے میں لینے کے بعد صیہونی آباد کاروں کو دینے کے لیے سرگرم ہے۔