You are here: غزہ اسرائیلی پابندیوں کے باعث غزہ میں کیمیائی علاج کی سہولت ختم
 
 

اسرائیلی پابندیوں کے باعث غزہ میں کیمیائی علاج کی سہولت ختم

E-mail Print PDF

0Pala11697غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطینی وزارت صحت نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی کے علاقے پر اسرائیل کی طرف سے مسلط کردہ پابندیوں کے نتیجے میں اسپتالوں میں کیمیائی علاج کی سہولیات ختم ہوگئی ہیں جس کے نتیجے میں کینسر کے درجنوں مریضوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہیں۔ وزارت صحت کا کہنا ہے کہ بروقت غزہ کی پٹی کو کیمیائی علاج کے لوازمات مہیا نہ کیے گئے تو اس کے نتیجے میں غزہ میں صحت کا سنگین بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق غزہ کی پٹی میں وزارت صحت کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیاہے کہ غزہ کے اسپتالوں میں کینسر کے مرض کا شکار مریضوں کے علاج کے لیے کیمیائی علاج 80 فی صد ختم ہوچکا ہے۔ جس کے نتیجے میں غزہ میں سرطان کے درجنوں مریضوں کی طبی حالت مسلسل تشویشناک ہو رہی ہے۔

غزہ کے الرنتیسی اسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر محمد ابو سلمیہ نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ کیمیائی طریقہ علاج کی سہولت 80 فی صد ختم ہوچکی ہے۔ کینسر کے مرض کے علاج کے لیے استعمال ہونے والی بنیادی دوائی ’نوموگین‘ ختم ہوچکی ہے۔ اس کے متبادل دیگر ادویات کا ذخیرہ بھی ختم ہو رہا ہے۔ اگلے چند روز کے دوران غزہ کے اسپتالوں میں کیمیائی علاج کا بحران پیدا ہوسکتا ہے۔

خیال رہے کہ صیہونی ریاست نے سنہ 2006ء کے بعد سے غزہ کی پٹی کی بحری، فضائی اور زمینی ناکہ بندی کررکھی ہے جس کے نتیجے میں علاقے میں بدترین معاشی، طبی اور دیگر شعبوں کا بحران چل رہا ہے۔