You are here: فلسطین اسرائیل نے فلسطینی وجود کو ختم کرنے کی جنگ مسلط کر رکھی ہے
 
 

اسرائیل نے فلسطینی وجود کو ختم کرنے کی جنگ مسلط کر رکھی ہے

E-mail Print PDF

0Pala11714مقبوضہ بیت المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) بیت المقدس کے فلسطینی گورنر عدنان الحسینی نے کہا ہے کہ بالعموم پورے فلسطین اور بالخصوص غرب اردن کے ’سیکٹر‘ ’C‘ میں صیہونی ریاست نے فلسطینی قوم کے وجود کو مٹانے کی جنگ مسلط کر رکھی ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق ایک انٹرویو میں الحسینی نے کہا کہ مغربی کنارے کا ’سیکٹرسی ‘ علاقے کے کل رقبے کا 62 فی صد ہے۔ اسرائیل اس سیکٹر میں فلسطینیوں کو تعمیرات، زراعت، کاشت کاری، سرمایہ کاری، صنعت حتیٰ کی آزادانہ نقل وحرکت کی اجازت بھی نہیں دے رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’سیکٹر C‘ کے فلسطینیوں کو اپنی بقاء کی جنگ درپیش ہے۔ سیکٹر کے تمام قدرتی وسائل، آبی وسائل اور دیگر تمام وسائل پر اسرائیل نے قبضہ جما رکھا ہے۔ فلسطینی شہری مکمل طور پرصیہونی غاصبوں کے رحم وکرم پر ہیں۔ فلسطینی نہ تو کاشت کاری کرسکتے ہیں اور نہ ہی گھر تعمیر کرسکتے ہیں۔ دوسری جانب صیہونی آباد کاروں کو فلسطینیوں کے تمام سائل پر قبضٗے کے حقوق حاصل ہیں اور وہ فلسطینیوں کے وسائل پرغاصبانہ قبضہ کررہے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں الحسینی نے کہا کہ سیکٹر ’C‘ میں صیہونی ریاست کی طرف سے فلسطینیوں کو اپنی بقاء کے لیے کئی منصوبوں پر کام شروع کرنے کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ صیہونی ریاست سیکٹر C پر اس لیے غاصبانہ تسلط مضبوط کررہا ہے کیونکہ اس کے بغیرصیہونی ریاست کے وجود کو خطرات لاحق ہیں اور یہ سیکٹر علاقے میں صیہونی ریاست کے وجود کے لیے بنیادی اڈہ ثابت ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ اسرائیل ایک طے شدہ منصوبے کے تحت فلسطینی ریاست کے قیام کی مساعی کوتباہ کررہا ہے۔ سیکٹر سی اور غرب اردن کے دوسرے علاقوں میں مسلسل صیہونی آباد کاری، جاری رکھے ہوئے ہے۔ صیہونی ریاست کو فلسطینی اراضی اور وسائل پر قبضے کی جنگ میں امریکا کی طرف سے بھی بھرپور مدد اور معاونت حاصل ہے اور صیہونی ریاست اقوام متحدہ کی قراردادوں کو کھلے عام پامال کررہا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں الحسینی نے کہا کہ فلسطین نیشنل کونسل کے اجلاس میں سیکٹر C میں مختلف منصوبوں ، سیاسی اور اقتصادی پروجیکٹ کے لیے مشکل فیصلہ کرنا ہے۔

الحسینی نے کہا کہ امریکی انتظامیہ اور اسرائیل مل کر فلسطینی ریاست کے قیام، حق واپسی، فلسطینیوں کے حقوق، القدس اوربیت المقدس کو فلسطین کا دارالحکومت بنانے کی مساعی کو سبوتاژ کررہے ہیں۔

الحسینی نے مزید کہا کہ بیت المقدس کے بغیر فلسطینی ریاست کا کوئی وجود نہیں۔ اگر القدس کو فلسطین کا دارالحکومت نہیں بنایا جاتا تو فلسطینی مملکت کا کوئی وجود نہیں۔ غزہ کے بغیر فلسطینی ریاست اور فلسطین کے بغیر غزہ کا کوئی تصور نہیں۔ یہ وہ مسلمات اور بنیادی اصول ہیں جن کے بغیر فلسطینی مملکت کا قیام ممکن نہیں ہوسکتا۔

القدس کے گورنر نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ فلسطینی قوم سنہ 1948ء کے بعد سے اب تک کئی نسلوں سے اپنے قومی پروگرام کے لیے جنگ لڑ رہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ فلسطین نیشنل کونسل آنے والے دنوں میں غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ پابندیوں کواٹھانے اور فلسطینی دھڑوں میں مصالحت پر بات چیت کرے گی۔