You are here: مقالاجات مسجد اقصیٰ جل رہی ہے
 
 

مسجد اقصیٰ جل رہی ہے

E-mail Print PDF

Islamtimes 4تحریر: صابر ابو مریم 

پی ایچ ڈی ریسرچ اسکالر
سیکرٹری جنرل فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان


مسجد اقصیٰ جسے مسلم دنیا قبلہ اول کے نام سے بھی جانتی ہے تاریخی طور پر ایک قدیم ترین مقام ہے ۔اس مقام کی جہاں تاریخی اہمیت ہے وہاں ساتھ ساتھ مذہبی اہمیت بھی ہے کیونکہ یہاں پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام، حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان سے قبل آنے والے انبیائے کرام تشریف لاتے رہے اور پھر اسی طرح ختمی مرتبت حضرت محمد مصطفی(ص) کو بھی شب معراج اسی مقام پر لایا گیا تھا جہاں آپ نے تمام انبیائے الہی کی جماعت کی امامت فرمائی ۔بہر حال اگر اس مقام کی تاریخی اور مزہبی اہمیت بیان کرنے کی کوشش کی جائے تو کتابیں لکھنا بھی کم ہو گا ۔

مسجد اقصیٰ جو کہ فلسطین کے مشرقی یروشلم کے علاقہ میں واقع ہے ایک منفرد اور تاریخی مسجد ہونے کے ساتھ ساتھ دنیا کے قدیم ترین ورثہ میں ایک انمول حیثیت رکھتی ہے۔

فلسطین پر غاصب صیہونیوں کی جعلی ریاست کے قیام کے بعد سے مسجد اقصیٰ کے خلاف متعدد سازشی اقدامات کئے جاتے رہے اور آج تک کئے جا رہے ہیں ، اس طرح کی خبریں بھی عالمی ذرائع ابلاغ پر گردش کرتی رہی ہیں کہ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کی جانب سے مسجد اقصیٰ کے مقام کے عین نیچے زیر زمین خندق کھود کر مسجد کو منہدم کرنے اور شہید کرنے کی صیہونی تیاریاں مکمل ہیں لیکن شاید خدا نے منافقین اور دشمنوں کے دلوں میں فلسطینیوں کا خوف ڈال کر اس گھناؤنے اقدام کو روک رکھا ہے۔کیونکہ فلسطین پر صیہونی جعلی ریاست کے ناجائز تسلط کے بعد سے ہمیشہ ہی مشاہدے میں آیا ہے کہ جب کبھی صیہونیوں نے مسجد اقصیٰ کے خلاف گھناؤنی حرکار انجام دی ہیں ایک نا رکنے والا طوفان کھڑا ہوا ہے ۔

سنہ1969ء کی ہی بات ہے کہ جب غاصب صیہونیوں نے اپنی ناپاک منصوبہ بندی کے تحت مسجد اقصیٰ پر حملہ کیا اور مسجد کو نذر آتش کر دیا اس حادثہ میں جہان پوری دنیا کے مسلمانوں کے دل جل کر خاکستر ہوئے وہاں ساتھ ہی ساتھ مسجد اقصیٰ کے متعدد تاریخی اور قدیمی اہم مقامات کو بھی شدید نقصان پہنچا تھا جس پر بعد میں صیہونیوں نے یہ کہہ کر پردہ ڈالنے کی کوشش کی تھی کہ مسجد کو نذر آتش کرنے والا صیہونی کارندہ مجنوں یعنی پاگل یا ہوش و ہواس میں نہ تھا۔لیکن دنیا یہ حقیقت اچھی طرح جانتی ہے کہ صیہونزم دراصل مجنونیت، پاگل پن، آوارہ پن، جہالت،دہشت گردی اور دنیا کی تمام برائیوں کی جڑ ہے۔اور شاید اسی بات کی تصدیق صیہونیوں نے بھی مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کئے جانے کے بعد مجرم کو بچانے کے لئے اسے پاگل یا مجنوں کہہ کر کی تھی۔

یہ فلسطین کی تاریخ میں مسجد اقصیٰ کے خلاف ہونے والی نہ تو پہلی سازش تھی اور نہ ہی آخری، کیونکہ تاریخ میں اس سے پہلے بھی دشمن قوتوں کی جانب سے اوچھے ہتھکنڈوں کا استعال جاری رہا تھا لیکن فلسطین پر سنہ1948ء میں جعلی ریاست اسرائیل کے قیام کے بعد سے صیہونیوں کی جانب سے یہ سلسلہ مزید تیزی اور شدت اختیار کرتا چلا گیا اور بالآخر سنہ1969ء میں اگست کی21تاریخ کو مسجد اقصیٰ کو نذر آتش کرنے کا سانحہ پیش آیا جس نے دنیا کے بھر کے مسلمان حکمرانوں کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا تھا اور مسلم دنیا کے حکمرانوں میں پہلی مرتبہ یہ احساس بیدار ہو اتھا کہ اگر مسجد اقصیٰ کی حفاظت نہ کی گئی تو پھر مسجد حرام اور مسجد نبوی بھی صیہونیوں کی ایسی ہی سازشوں کا شکار ہو سکتے ہیں۔اس حادثہ نے مسلمان حکمرانوں کو یکجا ہونے کا موقع دیا اور پھر مسلمانوں کی تنظیم او آئی سی کا قیام عمل میں لایا گیا جس کا بنیادی مقصد مسجد اقصیٰ کا دفاع اور فلسطین کے عوام کے حقوق کا تحفظ اور غاصب صیہونی ریاست اسرائیل کے ناپاک وجود سے آزدی تھا۔لیکن رفتہ رفتہ صیہونیوں نے او آئی سی کا قیام عمل میں لانے والے مسلم امہ کے رہنماؤں کو یکے بعد کسی نہ کسی طرح قتل کروا دیا اور آج صورتحال یہ ہے کہ او آئی سی ہو یا عرب لیگ سب کے سب امریکی کٹھ پتلی بن کر رہ گئے ہیں اور فلسطین و مسجد اقصیٰ کی آزادی تو کجا اب دانستہ اور نا دانستہ طور پر اسرائیلی مفادات کے تحفظ کا فریضہ بھی انہی سے انجام لیا جاتا ہے۔

مسجد اقصیٰ سنہ1969ء میں تو ایک صیہونی کے ہاتھوں نذر آتش ہوئی تھی لیکن آج مسجد اقصیٰ روزانہ دنیا بھر کے بے ضمیر حکمرانوں بالخصوص مسلمان بے ضمیر اور امریکی غلام حکمرانوں کے رویوں کی وجہ سے روزانہ کی بنیاد پر صبح اور شام جل رہی ہے اور صدائیں دیتی ہے کہ کیا اب دنیائے اسلام میں مسجد اقصیٰ کے طلبگار باقی نہیں ہیں؟ آج جب مسلم دنیا کے حکمران دنیا کے سب سے بڑے شیطان اور فلسطینی عوام کے قاتل ڈونلڈ ٹرمپ کی باہوں میں باہیں ڈالے رقص کرتے ہیں تو مسجد اقصیٰ چیخ چیخ کر پکارتی ہے کہ عالم اسلام کو کیا ہو گیا ہے؟ مسجد اقصیٰ آج بھی جل رہی ہے کیونکہ جب عرب حکمرانوں نے اپنی غیرت وحمیت کو امریکی و صیہونی غلامی کے عوض فروخت کر ڈالا ہے ایسے حالات میں مسجد اقصیٰ جل ہی رہی ہے۔

ایسے حالات میں سلام ہے ملت عظیم فلسطین پر کہ جس نے حق و صداقت کے پرچم کو بلند کر رکھا ہے اور نہ صرف مسجد اقصیٰ کا حقیقی دفاع کیا ہے بلکہ پورے فلسطین میں غاصب اور جعلی ریاست اسرائیل کے لئے ایک نیا چیلنج کھڑا کیا ہے اور اسرائیل کے ہر اس خواب کو چکنا چور کیا ہے کہ جس کے تحت اسرائیل مسجد اقصیٰ پر تسلط چاہتا تھا، ہر وہ خواب جس کے تحت اسرائیل کی سرحدیں نیل و فرات عبور کرتے ہوئے مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ تک پہنچنا چاہتی تھیں۔فلسطین کی عظیم قوم نے جعلی ریاست اسرائیل کے تمام منصوبوں کو خاک میں ملا کر رکھ دیا ہے۔

لیکن یاد رہے کہ مسجد اقصیٰ 21اگست 1969ء میں جلائی گئی تھی تو آج بھی ہر اس اقدام کے باعث جلتی ہوئی نظر آ رہی ہے کہ جس کے باعث مسلم دنیا کا وقار امریکی شیطان کے ہاتھوں گروی رکھا جا رہاہے، امریکی اسلحہ خرید کر عرب ممالک اپنے پڑوسی ممالک میں جنگیں مسلط کر رہے ہیں ، معصوم انسانوں کا خون بہایا جا رہاہے، امریکی و اسرائیلی مفادات کی خاطر دوسرے ممالک کو جنگ وجدال میں دھکیل کر ہزاروں ہی نہیں لاکھوں بے گناہوں کو موت کی نیند سلایا جا رہاہے ،یقیناًمسلم دنیا کے حکمرانوں کے ایسے اعمال سے مسجد اقصیٰ ٹھیک اسی طرح سے جل رہی ہے کہ جس طرح سنہ1969ء میں صیہونیوں نے نذر آتش کیاتھا۔

دور حاضر میں مسلم امہ کی بے حسی پر مسجد اقصیٰ کی نگاہیں مسلم دنیا پر لگی ہوئی ہیں اور پکار پکار کر کہ رہی ہے کہ،
ہیں تیری طرف قبلہ اول کی نگاہیں،
سن غور سے القدس سے آتی ہیں صدائیں،
للہہ مجھے غیر کے قبضہ سے چھڑائیں،
یا پھر مجھے دنیا کے مسلمان بتائیں،
باقی نہیں اسلام میں کیا میرے طلبگار
اک ہاتھ میں قرآن لے اک ہاتھ میں تلوار