You are here: مقالاجات فلسطین کی تحریک آزادی کیلئے تاریخ کا سبق
 
 

فلسطین کی تحریک آزادی کیلئے تاریخ کا سبق

E-mail Print PDF

0Pala9376تحریر: عرفان علی

غیر ملکی سامراجی ممالک کے ظلم و ستم اور تسلط سے آزادی کی حقیقی داستانیں تاریخ کے صفحات پر بکھری ہوئی ہیں۔ 1857ء میں برطانوی سامراج کے شکنجے میں جکڑے ہندوستان کے عوام نے قیام کیا تو اسے بغاوت یا غدر کا نام دیا گیا۔ نکتہ آغاز کے نوے سال بعد اگست 1947ء میں نہ صرف یہ کہ پرانا ہندوستان آزاد ہوا بلکہ ساتھ ہی مسلمان اکثریتی صوبوں کے مسلمان علاقوں پر مشتمل نیا ملک پاکستان بھی دنیا کے نقشے پر نمودار ہوا۔ بھارت میں گاندھی، نہرو تو پاکستان میں محمد علی جناح تاریخ میں زیادہ مشہور ہوئے، لیکن تاریخ نے سندھ کے پیر پگارا صبغت اللہ شاہ عرف سورھیہ بادشاہ جیسے سامراج دشمن مسلمان اور بھارتی پنجاب کے سوشلسٹ بھگت سنگھ جیسے جوان کو بھی ان کی مسلح تحریک کی وجہ سے اپنے دامن میں سمو لیا۔ فرانس سامراج کے تسلط سے آزادی کی تحریک عرب مسلمان خطے الجزائر میں جنگ عظیم اول کے وقت سے ہی شروع ہوکر کسی نہ کسی شکل میں جاری تھی، لیکن الجزائر 1962ء میں آزاد ملک بنا۔ عرب مسلمان ملک شام کی تحریک آزادی کی مثال بھی دی جاسکتی ہے۔ انڈوچائنا جنگوں اور اس سلسلے میں خاص طور پر ویتنام جنگ کی مثال بھی دی جاسکتی ہے، کیونکہ فرانس اور برطانیہ کی نو آبادیاں، انتداب یا پروٹیکٹوریٹ بھی تاریخ کا رزق بنے، لیکن امریکہ تاحال کسی نہ کسی انداز میں دیگر ممالک کو ڈکٹیشن دے رہا ہے، لہٰذا اسی امریکہ کو نشان عبرت بنانے والی ویتنام جنگ بھی ملتوں کے لئے تاریخ کا ایک سبق ہے۔ ویتنام مسلمان ملک نہیں تھا اور نہ ہی عرب لیکن قدر مشترک غیر ملکی تسلط کے مقابلے میں مسلح مقاومت ہے۔ یہ سرد جنگ کے دور میں لڑی جانے والی نیابتی جنگ تھی۔ 1858ء سے فرانس کا تسلط تھا۔ ہوچی من نے 1945ء میں ویتنام کی آزادی کا اعلان کیا اور پھر فرانس سامراج اور اس کی نیابتی جنگ لڑنے والوں سے لڑے بعد میں امریکی فوجی مشیر اور 1965ء سے باقاعدہ لڑاکا امریکی فوجی وہاں میدان میں اترے، 1966ء میں دو لاکھ امریکی فوجی جنوبی ویتنام میں اترے اور یہ تعداد بڑھ کر پانچ لاکھ ہوگئی، ہوچی من کے انتقال کے باوجود معرکہ جاری رہا۔ ہزاروں امریکی فوجی اور ان کے اتحادی مارے گئے۔

یہ جدید تاریخ ہے۔ ماضی بعید میں مسلمانوں کے پاس جنگ بدر سمیت بہت سی جنگوں کی مثال ہے۔ ایران اور مشرقی روم کی (بازنطینی) بڑی بڑی سلطنتیں مسلمانوں کے ہاتھوں سقوط کو پہنچیں۔ قبل از اسلام ایرانی بادشاہ دارا کے دور کے بارے میں یونانی مورخ ہیروڈوٹس کی تاریخ پر لکھی گئی کتاب چہارم میں خانہ بدوش اسکائی تھیئن کمیونٹی کا تذکرہ ہے کہ اس نے دارا کی بہت بڑی ایرانی سلطنت کے مقابلے میں کامیاب مقاومت کی تھی اور یوریشیاء میں کئی علاقے ان کے کنٹرول میں تھے۔ تاریخ کا سبق یہ ہے کہ ہر جنگ میں برابر کی طاقتیں فریق نہیں ہوتیں بلکہ بعض اوقات یا بسا اوقات غیر متوازن یا غیر متناسب جنگیں لڑی جاتی رہی ہیں۔ پہلے پیراگراف کی تمام مثالیں اسی ضمن میں بیان کی گئی ہیں، حتٰی کہ دوسرے پیرا گراف کی مثالوں پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ بعض اوقات جنگیں مرضی سے لڑی جاتی ہیں اور بعض اوقات ملتوں پر جنگیں مسلط کی جاتی ہیں اور انہیں لڑنے پر مجبور ہونا پڑتا ہے غیر ملکی نسل پرست یہودیوں کا صہیونیت کے سیکولر سیاسی پلیٹ فارم پر جمع ہوکر مشرق وسطٰی کے عرب اکثریتی علاقے فلسطین کا رخ کرنا اور یہاں دہشت گردی کرکے مقامی آبادی کو بے گھر اور بے وطن کرکے ایک جعلی ریاست بنانا بھی غیر متوازن اور غیر متناسب جنگ کی ہی ایک مثال ہے۔ انگریزی میں اور امریکہ اور یورپ کی فوجی اصطلاح میں اسے اے سمیٹرک
asymmetricوار فیئر کہا جاتا ہے۔ کینیتھ پولاک 1988ء سے 1995ء تک امریکی ادارے سی آئی اے اور 1995ء سے 2001ء تک امریکہ کی نیشنل سکیورٹی کاؤنسل میں امریکہ کی اس خطے میں پالیسی سازی کا ایک اہم کردار رہا ہے۔ اس نے ایران اور امریکہ کے مابین تنازعہ پر کتاب دی پرشین پزل (باب نہم Collision Course) میں ایران کی حکمت عملی کے بارے میں امریکی فوج کا نکتہ نظر ان الفاظ میں بیان کیا ہے:This is what the U.S. military refers to as "asymmetric warfare" - another country attacking the United States in ways that play to its strengths and prevent us from employing our own. Iran seems to have been the first country after the Gulf war to craft an asymmetric strategy against the United States."

ایران ایک ملک کی حیثیت سے امریکہ کے خلاف اور اس کی قیادت میں مقاومت کے محور میں شامل لبنان و فلسطین کی قومی مزاحمتی تحریکیں جعلی ریاست اسرائیل کے قبضے کے خلاف جائز اور قانونی قومی مزاحمت کی حیثیت سے لبنان و فلسطین میں جو مسلح تحریک چلا رہی ہیں، اسے سمجھنے کے لئے کینیتھ پولاک کے یہ جملے ہی کافی ہیں۔ گوریلا جنگ بھی ایک طرح سے یہی غیر متوازن جنگ ہوا کرتی ہے۔ اگر کوئی طاقت اور وسائل میں بڑا ہو، اس کا اسلحہ، مال، اثر و رسوخ بھی بہت ہو، تب بھی کوئی غیرت مند ملت اس کے آگے سجدہ ریز نہیں ہوا کرتی، ہم جیسوں نے تاریخ کا رٹا نہیں مارا البتہ تاریخ کے صفحات پر ادھر ادھر بکھری حقیقی داستانوں میں پنہاں مثالوں سے جو کچھ سیکھا جا سکتا ہے، اسے اپنے الفاظ میں بیان کرنے کی کوشش کی ہے۔ فلسطین کی آزادی کی تحریک کے متوالے بھی ان مثالوں سے سبق حاصل کریں تو مسئلے کا حل یہ نہیں ہے کہ اسرائیل کے سرپرستوں اور دوستوں کے آسرے پر رہا جائے۔ وہاں سے کچھ حاصل نہیں ہونا۔ سلطنت عثمانیہ کے سقوط پر شام، لبنان اور فلسطین تینوں عرب علاقوں کا مسئلہ زیر بحث آیا کرتا تھا، شام و لبنان پر فرانسیسی سامراج نے کنٹرول کیا، لیکن بہرحال وہاں آج آزاد مملکتیں قائم ہیں، لیکن فلسطین میں اکثریتی آبادی یعنی مسلمان فلسطینیوں یا مسیحیوں کو بھی ساتھ ملاکر بات کریں، یعنی عربوں کو آج تک حق خود ارادیت سے محروم رکھا گیا ہے، جبکہ اسرائیل کو ایک یہودی ریاست تسلیم کر لیا گیا ہے، حالانکہ اس کے اعلان آزادی پر دستخط کرنے والے سینتیس بانیان قوم میں سے صرف ایک فلسطین میں پیدا ہوا، ایک یمن میں اور بقیہ پینتیس کا تعلق کسی بھی عرب ملک سے نہیں تھا چہ جائیکہ فلسطین۔(1)

سفارتکاری کی اوقات یہ ہے کہ بین الاقوامی تعلقات اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت قائم ہیں۔ اقوام متحدہ کا فیصلہ ساز ادارہ سکیورٹی کاؤنسل ہے کہ جہاں پانچ مستقل اراکین کے پاس ویٹو پاور ہے اور کوئی بھی فیصلہ ان میں سے ایک بھی ویٹو (یعنی مسترد) کر دے تو فیصلہ کالعدم قرار پائے گا۔ یروشلم کو اسی اقوام متحدہ نے اپنے زیر انتظام رکھنے کا قانون منظور کیا ہے، لیکن کیا یہ اقوام متحدہ اپنے ہی اس فیصلے پر آج تک عمل کرسکا ہے۔ 15 مئی 1948ء سے اسرائیل نام کی ایک جعلی ریاست بنی ہوئی ہے، جسے اسی اقوام متحدہ نے 1949ء میں اپنے ہی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے رکن تسلیم کر لیا اور اس میں اس جعلی ریاست نے قرارداد 181 اور قرارداد 194 کو بھی تسلیم کیا، لیکن آج ستر سال ہوگئے، کیا ان دونوں قراردادوں پر عمل ہوگیا؟ کیا فلسطینیوں کو حق خود ارادیت مل گیا، کیا آزاد فلسطینی ریاست قائم ہوگئی؟ کیا یروشلم آزاد ہوگیا؟ کیا فلسطینی علاقوں میں غیر قانونی یہودی بستیاں ختم کردی گئیں۔؟ اس کا جواب ہے 23 دسمبر 2016ء کی ایک اور کھوکھلی قرارداد نمبر 2334 جس میں پچھلی دس قراردادوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جس کا سلسلہ 1967ء میں منظور ہونے والی قرارداد سے شروع ہوتا ہے۔ وہ گیارہویں قرارداد بھی منظور ہوگئی، لیکن کل ہی فلسطینی علاقے نابلس میں مزید پندرہ یہودی ہاؤسنگ یونٹس کی خبر فلسطین کے سرکاری خبر رساں ادارے فلسطینی وکالۃ الانباء و المعلومات نے جاری کی ہے۔ اب ٹرمپ کے فیصلے کے خلاف اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے قرارداد منظور کرلی ہے، لیکن اس کی حیثیت کیا ہے؟ سفارتکاری سفارتکاری کا رٹا لگانے والے یاد رکھیں، اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے اور حیثیت ان قراردادوں کی بھی نہیں ہے، جو سکیورٹی کاؤنسل نے منظور کی ہے، کیونکہ اسرائیل پر کسی بھی عالمی قانون کا اطلاق عملاً نہیں ہوتا۔

اسی سال امریکہ کے سارے سینیٹروں نے ایک مشترکہ خط اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کے نام خط لکھا ہے اور الزام لگایا ہے کہ اقوام متحدہ اسرائیل کے ساتھ تعصب روا رکھتا ہے، یہ سلسلہ ختم کیا جائے۔ (اس سادگی پہ کون نہ مر جائے اے خدا!) اور یہ تاثر پھیلانا کہ ٹرمپ کی وجہ سے اب امریکہ ایسا ہوگیا ہے، یہ بھی ایک جھوٹ ہے، کیونکہ اسرائیلی لابی کے خلاف امریکی ایوان نمائندگان (کانگریس) کے سابق رکن پال فنڈلے نےDeliberate Deception اور They Dare to Speak Outکے عنوان سے جو کتابیں تصنیف کیں، یہ کتابیں 1985ء اور 1993ء کی ہیں۔ امریکی وزارت خارجہ میں پچیس سال خدمات انجام دینے والے آرون ڈیوڈ ملر نے چھ امریکی وزرائے خارجہ کی ٹیم کے رکن کی حیثیت سے مشرق وسطٰی امن عمل یا عرب اسرائیل تنازعے میں مذاکرات کار کا کردار ادا کیا۔ 23 مئی 2005ء کو ان کا مقالہ واشنگٹن پوسٹ میں شایع ہوا، جس کا عنوان تھا ’’اسرائیل کا وکیل‘‘ اور اس کا آغاز انہوں نے ان جملوں سے کیا:I'm not a lawyer by training, but I know one when I see one. For far too long, many American officials involved in Arab-Israeli peacemaking, myself included, have acted as Israel's attorney, catering and coordinating with the Israelis at the expense of successful peace negotiationsیہ ہے امریکہ کی سفارتکاری کی حقیقت۔ ڈیموکریٹک ہوں یا ری پبلکن، سینیٹ میں ہوں یا ایوان نمائندگان میں یا پھر وائٹ ہاؤس میں، امریکہ اسرائیل کے مفادات کا محافظ ہے۔ امریکہ کی سرکاری دستاویزات، سرکاری شخصیات کی یادداشتیں سبھی میں ایک تاریخ دفن ہے اور اس کے بہت سے پہلو اور اس کی بہت سی تفصیلات ہم جیسوں کو معلوم ہے، ہماری تحقیق ہے، جس کی بنیاد پر ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ وہ اقوام متحدہ کہ جو یروشلم کو اپنی ٹرسٹی شپ میں نہ لے سکے، جو 1947ء اور 1948ء کی قراردادوں پر آج تک عمل نہ کرسکے اور وہ امریکہ جس کا کردار پال فنڈلے جیسے امریکی سیاستدان یا آرون ڈیوڈ ملر جیسے نمایاں سرکاری افسر اور اسکالر جیسے لوگوں کو بھی پریشان کر گیا، حالانکہ یہ اسرائیل کو ملک اور امریکہ کے اس کے ساتھ تعلق کے حامی بھی ہیں، تو ہم جیسے لوگ کیونکر اس کھلی تاریخی زیادتی و ناانصافی کو سفارتکاری کے عنوان سے قبول کرلیں گے۔ تاریخی حقائق کی روشنی میں ہی کہا تھا اور دوبارہ دہرا دوں کہ مسلح مقاومت ہی فلسطین کی آزادی کی کنجی ہے۔ اسرائیل نے مشرقی یروشلم پر قبضہ جون 1967ء میں کیا تھا، تب بھی عرب ممالک کی اکثریت امریکہ ہی کی اتحادی تھی اور سعودی عرب تو شروع سے سوویت کمیونزم کے خلاف امریکہ کا اتحادی تھا، تب سے اب تک عرب ممالک نے سفارتکاری سے فلسطین کا کونسا مسئلہ حل کیا ہے، جو اب کوئی بہت بڑی جوہری تبدیلی رونما ہوگئی ہے کہ عرب ممالک کی حیثیت اور اہمیت بڑھ گئی ہے کہ امریکہ ڈر جائے گا۔ اب ایسا کیا ہو جائے گا کہ جو ماضی میں کبھی نہیں ہوا کہ سفارتکاری کامیاب ہوجائے گی!

یہاں ایک دلچسپ مگر تلخ حقیقت بیان کر دوں کہ مسئلہ فلسطین میں مقاومت اسلامی کے محور کی قیادت کرنے والے ملک ایران کے بارے میں مسلمانوں اور عربوں اور خاص طور پر بزعم خویش دانشوروں اور تجزیہ کاروں کی اکثریت کا نظریہ ایسا ہے کہ اس پر گھر کی مرغی دال برابر کی کہاوت صادق آتی ہے۔ اس خطے میں جسے مشرق وسطٰی کہا جاتا ہے اور جہاں فلسطین یا جعلی ریاست اسرائیل واقع ہے، اس خطے میں امریکہ اور امریکی مغربی بلاک کے غیر عادلانہ نظام کو کمزور کرنے والا کوئی اور ملک نہیں ہے، سوائے ایران کے اور خود امریکہ کا بابائے سفارتکاری ہنری کسنجر کہتا ہے کہ:Iran has brought exceptional skill and consistency to bear on its own proclaimed goal of undermining the Middle East state system and ejecting Western influence from the region.یہاں کسنجر کا مقصد ایران کی تعریف نہیں ہے بلکہ وہ ایک حقیقت کو غلط انداز میں بیان کر رہا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ایران مشرق وسطٰی کے ریاستی نظام کو نہیں بلکہ یہاں صرف ایک جعلی ریاست اور اس کے مددگاروں کے خلاف ہے۔ تاریخ کے بارے میں بھی کسنجر کی رائے لاحظہ فرمائیں:(2)
ٖFor nations, history plays the role that character confers on human beingsدشمن کو بھی معلوم ہے کہ اقوام کے لئے تاریخ وہی کردار ادا کرتی ہے، جو شخصیات انسانوں کو عطا کرتی ہیں۔ تاریخ بے چاری اس قابل ہے ہی کب کہ وہ خود سے کچھ کرے بلکہ خاص طور پر انسان ایسا نمایاں کردار ادا کرتا ہے کہ تاریخ میں یادگار ہو جاتا ہے۔ فلسطینیوں کی تحریک آزادی کی تاریخ بھی ایسے کرداروں سے مزین ہے اور یہ تحریک مزید نئے تاریخی کرداروں کو جنم دے گی۔ ایران کا تفصیلی جائزہ اس وقت لیں گے جب ایرانی کردار برائے آزادی فلسطین کے موضوع پر لکھا جائے گا۔ صرف یہ اضافہ کر دوں کہ تاریخی کرداروں کے حوالے سے اہم نکتہ یہ ہے کہ جمال عبدالناصر نے اسرائیل کے خلاف قیام کیا تو عربوں کی تاریخ کا ہیرو بن گیا، 2006ء کی لبنان جنگ کے وقت حزب اللہ نے قیام کیا تو سید حسن نصر اللہ کو عرب عوام نے اپنا ہیرو قرار دیا۔ آئندہ بھی ایسے ہی ہوگا۔
ریفرنس:
1۔Deliberate Deception by Paul Findley
2۔Chapter 4
World Order: Reflections on the Character of Nations and the Course of History by Henry Kissinger