You are here: Home
 
 

فلسطینی ٹیکس غصب کرنے کے لیے صہیونی ریاست کی قانون سازی

E-mail Print PDF

0Pala6298مقبوضہ المقدس (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیلی ذرائع ابلاغ کے مطابق صہیونی حکومت نے فلسطینی اتھارٹی کو واجب الاداء ٹیکس ہڑپ کرنے کے لیے پارلیمنٹ کے ذریعے قانون سازی کا سہارا لیا ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق اسرائیل کے موقر عبرانی اخبار ’یدیعوت احرونوت‘ نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ کنیسٹ (پارلیمنٹ) کی خارجہ و سیکیورٹی کمیٹی نے آج ایک نئے مسودہ قانون پر غور کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

اس قانون کی منظوری کا مقصد فلسطینی اتھارٹی کواسرائیل کی طرف سے ادا کیے جانے والی رقوم روکنا ہے ہے۔ اس نئے قانون کی منظوری کے لیے یہ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کودی گئی رقوم فلسطینی اسیران اور شہداء کے اہل خانہ کی کفالت پر خرچ کی جاتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے گذشتہ برس اپریل میں دعویٰ کیا تھا کہ سال 2013ء سے 2016ء کے عرصے کے دوران  فلسطینی اسیران اور شہداء کے اہل خانہ کودی جانے والی امداد میں 125 ملین شیکل یعنی 35 ملین ڈالر کا اضافہ ہوا ہے۔ جب کہ اسرائیل کی طرف سے فلسطینی اتھارٹی کو واجب الاداء ٹیکسوں کی رقم 30 کروڑ ڈالر تک جا پہنچی تھی۔

گذشتہ برس امریکی کانگریس نے فلسطینی اتھارٹی کی امداد یہ کہہ کر کم کردی تھی کہ رام اللہ کو دی جانے والی امداد کا بیشتر حصہ فلسطینی شہداء اور اسرائیلی جیلوں میں قید فلسطینیوں کے اہل خانہ کو ادا کیا جاتا ہے۔