You are here: Home
 
 

‎فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام کانفرنس بعنوان فلسطین کے لئے سب کا ساتھ انعقاد

E-mail Print PDF

Plf conference 01کراچی (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے زیر اہتمام کراچی کے مقامی ہوٹل میں فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے کانفرنس بعنوان فلسطین کے لئے سب ساتھ ساتھ کا انعقاد کیا گیا۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مہمان خصوصی سینیٹر رضا ربانی کا کہنا تھا کہ فلسطین میں آج امریکی سفارتخانہ کی منتقلی کے خلاف ہونے والے پُرامن احتجاج پر اسرائیلی افواج کی فائرنگ کے نتیجہ میں اب تک چالیس مظلوم فلسطینیوں کی شہادت کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔ 70 سال پہلے فلسطین کی سرزمین پر صیہونی طاقتوں نے اپنا قبضہ جمایا۔صہیونیوں نے فلسطین میں ظلم و بربریت کی وہ داستان رقم کی جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔انہوں نے کہا کہ موجودہ بین الا قوامی صورتحال میں فلسطین کی آزادی ممکن نہیں۔ امت مسلمہ نے فلسطینی مظلوموں کیلئے موثر آواز نہیں اٹھائی اور نہ اسرائیل کے حوالے سے مسلم ممالک نے مؤثر آواز اُٹھائی۔میاں رضا ربانی کا کہنا تھا کہ سعودی کراؤن پرنس نے یہ بات واضح کہہ دی کہ فلسطینی یا تو ٹرمپ کا فارمولہ فالو کریں یا خاموش رہیں۔ انہوں نے کہا کہ گلف ممالک بھی اپنے روابط اسرائیل کے ساتھ بڑھا رہے ہیں۔دنیا کی سیاست میں ایک نیا الائنس نظر آرہا ہے جس میں واشنگٹن ،نئی دہلی۔،طل ابیب شامل ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ آج تک حل نہیں ہوا۔فلسطین اور کشمیر کا مسئلہ جب بھی اقوام متحدہ میں پیش ہوا توعالمی استکبار کی جانب سے ویٹو کر دیا جاتا ہے ۔ اُن کا کہنا تھا کہ فلسطین اور کشمیر میں انسانیت سوز مظالم ہو رہے ہیں۔پاکستان اور فلسطین میں سامراجی قوتیں مسئلہ فلسطین و کشمیر کے حل میں بڑی رکاوٹ ہیں۔کشمیر و فلسطین میں عصمت دری اور مسنگ پرسن کے مظالم مشترک ہیں۔امریکہ نے اسرائیلی نام نہاد انفارمیشن پر ایران سے ایٹمی معاہدہ ترک دیا۔امریکہ کا یکطرفہ معاہدے سے نکلنا اسرائیلی انفارمیشن کی بنیاد پر ہیں۔امریکہ کا ایران سے معاہدہ ختم ہونے پر سعودیہ و اسرائیل نے جشن منایا ۔فلسطین پر اسرائیلی جارحیت کے خلاف نوازحکومت کیمجرمانہ خاموشی پاکستانی عوام کی تذلیل ہے۔ لبنان میں حالیہ الیکشن میں حزب اللہ کی کامیابی خوش آئند ہے۔شام میں اسرائیلی بمباری سے مظلوموں کا خون بہایا جارہا ہے۔پاکستان کا جمہوری عمل ہی اس کی بقا کا ضامن ہے۔اسلامی جمہوریہ پاکستان نے دنیا میں ہونے والے ہر مظالم کے خلاف اٹھائے گا۔قائد اعظم محمد علی جناح سے لیکر آج تک مظلوموں کے حقوق کیلئے اور ان پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھائی۔ہم نے اپنی سرزمین سے کبھی دہشتگردوں یا ملک دشمن قوتوں کا ساتھ نہیں دیا۔پاکستان کو ہمیشہ راء کی دہشتگردی کا سامنا رہا۔بلوچستان کے خراب حالات کے پیچھے بھارتی دہشتگردی ہے۔ اسلامی ممالک او آئی سی عرب حکمرانوں کے ذاتی مفادات مسئلہ فلسطین کے حل میں اصل رکاوٹ ہیں۔مسلم امہ فلسطین کی آزادی کیلئے مشترکہ اور مسلسل جدوجہد کریں۔

کانفرنس سے خطاب میں متحدہ قومی موومنٹ کی سینٹرڈاکٹر نگہت مرزا کا کہنا تھا کہ شام،عراق،برما،فلسطین اور کشمیر میں ہونے والے مظالم کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔غزہ میں ہونے والے انسانیت سوز مظالم پر امت مسلمہ کی خاموشی مجرمانہ ہیں۔سیاسی و مذہبی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ مملکت خدادا پاکستان میں دہشتگردی انتہا پسندی کی روک تھام کیلئے اپنا فعل کردار ادا کریں۔

کانفرنس سے خطاب میں سابق سینٹر علامہ عباس کمیلی کا کہنا تھا کہ مسئلہ فلسطین کسی ایک فرقہ کا مسئلہ نہیں بلکہ عالم اسلام کا مسئلہ ہے گزشتہ دور میں لوگ فلسطین کا نام لینے سے گھبراتے تھے مگر آج ایسا نہیں ہے دنیا کے حالات تبدیل ہورہے ہیں انشاء اللہ فلسطین جلد آزاد ہوجائے گا۔کانفرنس سے خطاب میں سابق وفاقی وزیر حاجی حنیف طیب نے کہا کہ مظلوم فلسطینیوں کے حق میں آواز اٹھاناہماری اولین ذمہ داری ہے اسلام دشمن قوتیں مسلمانوں کے خلاف محاذبنا رہے ہیں مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارتخانہ عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے۔

کانفرنس سے خطاب میں جمیعت علما اسلام کے رہنما قاری عثمان کا کہنا تھا کہ70 سال سے مسئلہ فلسطین کے حل کیلئے مسلم حکمران خواب غفلت کا شکار ہیں۔مسلم حکمرانوں کا غاصب اسرائیلی حکمرانوں سے ہاتھ ملانا قابل مذمت ہے،شام،عراق،فلسطین اور کشمیر میں ہونے والی دہشتگردی کی پرزور مذمت کرتے ہیں۔

کانفرنس سے خطاب میں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما اسرار عباسی کا کہناتھا کہ تمام امت مسلمہ کو چاہئے کہ وہ یکجا ہو کر فلسطین کی آزادی کیلئے آراز بلند کریں ۔کانفرنس سے خطاب میں اے این پی کے رہنما یونس بونیری کا کہنا تھا کہ بیت المقدس عالم انسانیت کا مسئلہ ہے فلسطین میں انسانیت سسک رہی ہے اسرائیل کی جانب سے مسلسل انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہورہی ہے اور اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔

کانفرنس سے مجلس وحدت مسلمین کے رہنما علامہ احمد اقبال رضوی کا کہنا تھا کہ عرب دنیا نے مسئلہ فلسطین کو پس پشت ڈال دیا۔فلسطین کی آزادی اسرائیل کی نابودی ہے،امریکہ اسرائیل خطہ میں داعش کو مستحکم کر کے دہشتگردی کو فروغ دے رہے ہیں۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق ڈپٹی میئر کراچی طارق حسن کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم لیگ کے قائدین می ہمیشہ فلسطین کاز کی حمایت کی ہے اور ہم بھی بابائے قوم کے نقش قدم پر چلتے ہوئے فلسطین کے مظلوم عوام کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فلسطین فاؤنڈیشن پاکستان کے سیکرٹری جنرل صابر ابو مریم نے قرار داد پیش کی کہ ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو یوم القدس کے طور پر سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کیا جائے۔

‎کانفرنس کے اختتام پر فلسطین فاونڈیشن کی سرپرست کمیٹی کے رکن مظفر ہاشمی نے تمام مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا۔کانفرنس میں کراچی بار ایسوسی ایشن کے صدر حیدر امام رضوی،ڈاکٹر عالیہ امام،مطلوب اعوان،علامہ باقر زیدی ، محمد حسین محنتی،ڈاکٹر طلعت وزارت،ایم پی اے محفوظ یار خان ،ایم پی اے قمر عباس،شبر رضا،مسلم پرویز،راو ناصر علی،محمد عباس ،قاضی زاہد حسین،ارم بٹ،کرامت علی،فرزانہ برنی،عبد المجید عبدانی،آغا شیرازی، زین العابدین،سائمن گل، اشوک کمار، شکیل خان، عمران خالق، عابدہ بشیر، علی قاسم، عدنان کوڈیا، خواجہ بلال، سید عبد الرزاق، سسمیت دیگر سیاسی و مذہبی جماعتوں اور سول سوسائٹی کے رہنماوں نے بھی خطاب کا۔

‎کانفرنس میں تمام سیاسی و مذہبی جماعتوں کے رہنماوں اور سول سوسائٹی نے مشترکہ قرار داد منظور کی حکومت پاکستان فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کے لئے رمضان المبار ک کے آخری جمعہ یعنی جمعۃ الوداع عالمی یوم القدس کو سرکاری سطح پر منانے کا اعلان کرے۔فلسطین، فلسطینیوں کا وطن ہے، فلسطینیوں کے پر امن حق واپسی مارچ کی بھرپور حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔فلسطینی عوام کے پر امن احتجاجی مارچ پر اسرائیلی وحشیانہ ظلم و بربریت کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ قبلہ اول بیت المقدس (القدس /یروشلم) فلسطین کا ابدی دارلحکومت ہے، امریکی صدر کی جانب سے یروشلم شہر کی شناخت کو اسرائیل کے حق میں تبدیل کرنے کے فیصلہ کو مسترد کرتے ہیں۔ امریکی صدر کا امریکی سفارت خانہ کو یروشلم منتقل کرنے کا فیصلہ عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔عالمی برادری مسئلہ فلسطین کے حل کے لئے سنجیدہ کردار ادا کرے، کانفرنس کا مشترکہ مطالبہ۔برطانوی حکومت کی جانب سے پیش کیا گیا اعلان بالفور فلسطین پر اسرائیلی غاصبانہ ریاست کا وجود قائم کرنے کا پیش خیمہ بنا، لہذٰا برطانوی حکومت فلسطینی عوام کے حقوق کی مسلسل ایک سو سالہ پائمالی پر فلسطینی عوام اور دنیا سے معافی مانگے۔پاکستان کے عوام قائد اعظم محمد علی جناح کے قائم کردہ اصولوں کے مطابق متحد ہو کر تمام اختلافات سے بالا تر ہو کر مظلوم فلسطینی عوام اور ان کے حقوق کی جدو جہد کرتے رہیں گے۔امریکہ کی جانب سے پاکستان کے خلاف غیر مہذب رویہ اور بے بنیاد الزام تراشیوں کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہیں۔ غاصب صیہونی ریاست اسرائیل فلسطین میں انسانیت سوز مظالم ڈھا رہی ہے جبکہ ہندوستان مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقو ق کی پائمالی کا مرتکب ہو رہا ہے، اسرائیل مشرق وسطیٰ اور ہندوستان جنوبی ایشیاء میں دہشت گردی کرنے اور امن امان تباہ کرنے کے ذمہ دار ہیں۔دنیا کے مختلف ممالک بشمول شام، لبنان، عراق، افغانستان، لیبیا، یمن اور دیگر حصوں میں غیر ملکی جارحیت کی شدید مذمت کرتے ہیں اور دنیا کے امن کے لئے سنگین خطرہ ہے۔

Plf conference 02