فلسطینیوں کے آتشی پتنگوں سے اسرائیل کی شہد کی صنعت تباہ

Print

0Pala11277غزہ (فلسطین نیوز۔مرکز اطلاعات) اسرائیل کے عبرانی اخبار ’یسرائیل ھیوم‘ نے آج منگل کی اشاعت میں شامل ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ غزہ کی سرحد سے فلسطینیوں کی جانب سے صیہونی کالونیوں پر پھینکے گئے آتشی جہازوں سے نہ صرف زیرکاشت فصلوں کو بے پناہ نقصان پہنچ رہا ہے بلکہ مقامی شہد کی صنعت کو بھی غیرمعمولی نقصان سے دوچار کیا گیا ہے۔

فلسطین نیوز کو موصول ہونے والی اطلاعات کے مطابق عبرانی اخبار نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ چند ایام کے دوران فلسطینی شہریوں کی جانب سے کاغذی آتش گیر جہازوں کے حملے میں سرحد کی دوسری جانب ایک شہد کے فارم میں آگ بھڑک اٹھی جس کے نتیجے میں شہد کی مکھیوں کے 100 چھتے تباہ ہوگئے۔

رپورٹ کے مطابق تباہ ہونے والے شہد فارم سے آخری دو ماہ کے دوران تین سے پانچ ٹن شہد حاصل کیا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ فلسطینیوں کے آتشی کاغذی جہازوں کے نتیجے میں شہد کے صنعت کاروں کو لاکھوں شیکل کا نقصان پہنچا ہے۔

خیال رہے کہ 30 مارچ 2018ء سے غزہ کی پٹی میں جاری عوامی تحریک حق واپسی کے دوران فلسطینیوں نے ایک منفرد مزاحمتی اسلوب اپنایا ہے۔ مظاہرین نے ایسے کاغذی جہاز تیار کیے ہیں جو اپنے ساتھ آتش گیر مواد لے جانے اور اسرائیلی کالونیوں میں فصلوں اور دیگر املاک میں آگ لگانے کا موجب بن رہے ہیں۔ یہ کاغذی جہاز صیہونی فوج اور ریاست کے لیے مسلسل درد سر بن چکے ہیں۔